فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 21 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 21

اپنے سامنے لے آئے۔نماز کے بعض حصوں میں ہر شخص اپنے اپنے طور پر مقررہ دعائیں اور وہ دعائیں بھی جن کو وہ چاہتا ہے پڑھتا ہے لیے پھر اسلام نے ایک اور حد بندی بھی توڑ دی ہے۔عیسائی نے اگر نماز پڑھنی ہو تودہ گرجے میں جائیگا ہنڈ نے گر نماز پڑھنی ہو تو مندرمیں جائیگا۔سکھ نے اگرنماز پڑھی ہو وہ گوردوار میں جائیگا لیکن سول کریم صلی الہ علیہ سلم نے فرمایا۔جُعِلَتْ لى الارض مسجداً له میرے لئے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے عیسائیوں میں صرف گرجوں میں عبادت ہوتی ہے منڈوں میں صرف مندروں میں عبادت ہوتی ہے مگر ساری زمین کے چپہ چپہ پر صرف مسلمانوں نے سجدہ کیا ہے۔ہم جب پہاڑوں پر جاتے ہیں تو جان بوجھ کر مختلف جگہوں پر نماز پڑھتے ہیں تاکہ کوئی جگہ ایسی نہ رہ جائے جہاں خدا تعالی کی عبادت نہ کی گئی ہو۔دیکھو کتنی وسعت ہے جو اسلام میں پائی جاتی ہے۔جہاں خداتعالی نے امامت میں ہر ایک کو حقدار یا کہ انسانوں میں مساوات قائم کر دی ہے وہاں جعلت لى الارض مسجداً لہکر زمین چہ چہ میں مساوات قائم کردی۔پھر ایک طرف جہاں جَعَلَتْ بي الارض مسجداً لیکر اتنی ساری زمین کو مسجد میں تبدیل کر دیا وہاں فرائض کے ساتھ نوافل ملا کر اس نے ہر گھر کوسجد بنا دیاکیونکہ نوافل کے متعلق رسول کریم صلی الہ علی وسلم نے یہ پسند فرمایا ہے کہ وہ گھر میں پڑھے جائیں جیسے فرمایا لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ اپنے گھروں کو مقبرے نہ بناؤ یعنی جیسے مقابر پر نمازہ پڑھی جانہ نہیں اس طرح تم گھروں کو بھی مت کھو بلکہ کچھ نمازیں گھر میں ادا کیا کرو۔اس طرح خدا تعالیٰ نے زمین کے چپہ چپہ پر عبادت کے لئے راستہ کھول دیا۔اسلامی نمانہ کو الہ تعالیٰ نے اپنے تقاء کا ایک ذریعہ بنایا ہے اللہ اکبر کہہ دینے کے بعد نماز پڑھنے والے گویا خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں بلکہ وہ کلی طور پر عبادت میں محو ہو جاتے ہیں وہ کسی سے بات نہیں کر سکتے دوسرے کے سلام کا جواب بھی نہیں دے سکتے حتی کہ باہر والے کا بھی حق نہیں ہوتا کہ وہ نماندی کی غلطی پر اس کو توجہ دلائے مثلاً کوئی نمازی ایک سجدہ زیادہ کر ویسے یا کم کرد سے تو ایک ایسا آدمی جو نماز میں شامل نہیں اُسے اس غلطی پر آگاہ نہیں کر سکتا۔گویا ایک مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ خداتعالی کے دربار میںحاضر ہو جاتا ہے اور کسی باہر والے کا یہ حق نہیں رہتا کہ وہ اسی کام میں دخل دے۔ہاں و شخص غلطی نکال سکتا ہے جو اس کے ساتھ جماعت میں شامل ہو۔اسی طرح وہ ادہر ادہر جھانک بھی نہیں سکتا۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو نمازی ادہر ادھر دیکھے گا خدا تعالیٰ اس کا سر گدھے اس بنا دیگا۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے انسان کی حماقت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ایسا شخص اول درجہ کا احمق ہوتا ہے وہ نماز میں ادہر ادہر کیوں دیکھتا ہے اسی لئے کہ اُسے کوئی ے دیباچہ تفسیر القرآن : : بخاری کتاب القیم کے :- ترمذی باب ثواب القرآن :