فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 234
۲۲۴ بوٹ پہنے چلا گیا اور ہر جگہ بوٹ پہنے ہوئے نماز پڑھی۔اور اس بات کو خانقاہ کے مجاوروں نے بُرا منایا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ اس معاملہ میں امیر حق پر تھا۔جوتے پہنے ہوئے نما نہ پڑھنا شرعاً جائز ہے۔بے الے بند کی میٹنگ مسجد میں ہوتی ہے۔کیا حائضہ عورت مسجد کے اندر منعقد ہونے والی سیٹنگ میں شامل ہو سکتی ہیں ؟ جوا ہے۔اگر مجبوری کی حالت ہو مثلاً اجلاس کے لئے کوئی اور موزوں جگہ ہی نہ ہو تو پھر حائضہ عورت کا مسجد میں جانا جائز ہے کیونکہ ممانعت کی اصل وجہ خالص تعبدی یعنی محض عبادت کے لئے نہیں بلکہ قومیت مساجد یعنی خون کے گرنے کے امکان کی وجہ سے مساجد کے گندہ ہو جانے کا خدشہ ہے۔لیکن موجودہ زمانہ میں عورتیں جس قدر اس بارہ میں احتیاط کرتی ہیں اس کے پیش نظر ایسے خدشات کا کوئی موقع نہیں ہے اس لئے بحالتِ ضرورت و مجبوری اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔اس لچک کا استدلال مندرجہ ذیل روایت سے کیا جا سکتا ہے :- إِنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأسَهُ فِي حُجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُوا الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضُ وَتَقَومُ إحْدَانَا بِخَمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبَسُطُهَا وَهِيَ حَائِمَ - لَ ال: حائضہ کے مسجد میں داخل ہونے کے بارہ میں حنفیہ کے علاوہ دوسرے مذاہب کا کیا مسلک جوا : حائضہ عورت ضرورت کے وقت مسجد میں داخل ہو سکتی ہے یا نہیں اس بارہ میں حنفیوں کا مسلک یہ ہے کہ وہ مسجد میں نہیں جا سکتی۔ان کے مسلک کی تائید میں صرف یہ حدیث ہے جو افلت" نامی ایک راوی سے ابو داؤد نے روایت کی ہے :- بوتِ صحابه شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ وَجهُوا هذه البُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ تُم دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَلَمْ يَدْمَعِ الْقَوْمُ شَيْئاً رِجَاءَ أَن تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ فَقَالَ وَجَدُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَانّي لَا أُحِلَّ الْمَسْجِدَ ه بدر در ایریل نگاه : ۲۲ : - نسائی کتاب المساجد ص :