فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 233
۳۳۳ جواب: اگر جوتی صاف ہو اور اس کے تلوے پر گند لگا ہوا نہ ہو تو اسے پہنے ہوئے انسان مسجد میں جاسکتا ہے۔ٹاٹ بچھا ہوا ہو تو یہ اور زیادہ بہتر صورت ہوگی۔تاہم چونکہ یہاں یہ طریق معروف کے مطابق نہیں اور لوگ ایسا کرنے کو برا مناتے ہیں اس لئے فتنہ اور جھگڑے سے بچنے کے لئے اس سے اجتناب اوئی ہے تا کہ فتنہ پردازی اور الزام تراشی کا سی کو کوئی موقع نہ مل سکے۔سوال : کیا جوتا پہن کر نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ جواہے :۔صاف جوتے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے تاہم فتنہ اور فساد سے بچنے کے لئے ایسا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔جہاں تک جواز کا تعلق ہے اس کے لئے بعض حوالہ جات درج ذیل ہیں :- ، عَن سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لَا نَسَ بْنِ مَالِكِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ۔اس حدیث پر محاکمہ کرتے ہوئے حضرت امام ترمدی لکھتے ہیں : حَدِيثُ رَنَسٍ حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيمٌ وَالْعَمَلُ على هذا عندا هل العلمية (۲) عَنْ شَدَادِ نِ ارْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِفُوا اليهود فإنَّهُمْ لا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَانِهِمْ۔٣۔(۳) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّى في التقلين۔(م) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ مَنْ جَدِهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلّى حَافِيًا وَمُتَنَقِلاً۔(۵) عن عبد الله قال لقدر اينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى في۔النعلين والخفين - شه سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ذکر ہوا کہ امیر کابل اجمیر کی خانقاہ میں مسلم كتاب الصلواة باب جواز الصلاة في التخلين ها ، بخاری باب ما جاء في الصلوة في التعال من له ترندي كتاب الصلوة بالصلوة :۔في الفعال ها بود او د باب الصلوة في النحل : : : - ابن ماجہ کتاب الصلواة باب الصلوة في التعال منت :