فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 18
۱۸ بافائدہ اور باوقار ہیں اور اس میں پڑھے جانے والے تمام اقوال با منے اور پر از ما ہیں۔اس طرح نمازمیں تمام وہ طریق تعظیم اختیار کئے گئے ہیں جو مختلف اقوام میں اظہا ر ادب کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ایرانی اقوام میں ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہو جانا اظہا ر ادب کی علامت تھا۔ترکی نسل کی اقوام میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجانا اظہار ادب کی علامت تھا۔یہودیوں اور بعض دوسری اقوام میں جھکتا اظہار عقیدت کی علامت تھا۔بر صغیر پاک و بھارت اور افریقہ میں سجد سے کے طور پر گر جانا اظہار ادب کا طریق۔یورپین اقوام میں گھٹنے کے بل بیٹھ جانے کو اظہا ر ادب کا طریق سمجھا گیا۔غرض ہر قوم میں اظہار عقیدت کی کوئی نہ کوئی علامت محسوس و مشہور ہے۔نماز میں ان تمام آداب کو جمع کر دیا گیا ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب کسی مذہب کا کوئی شخص مسلمان ہوگا اور نماز میں اپنے قومی شعار کو دیکھے گا اور اس میں اظہار ادب کے اپنے مخصوص و مانوس طریق کو اختیار کر لے گا تو اسے کمال لذت محسوس ہوگی۔عیسائی گھٹنے کے بل جھک جانے یعنی تشہد کی طرز کو پسند کرتا ہے کیونکہ عیسائیوں میں اظہار ادب کے لئے تشہد کے انداز میں بیٹھنے کا رواج ہے۔ہندوستانی مسجد سے کی حالت کو انتہائی تذلل و انکساری سمجھتا ہے۔ایرانی کو ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں تذلیل محسوس ہوتا ہے۔یہودی کو رکوع میں تذلل نظر آتا ہے۔غرض جو قوم بھی اسلام میں داخل ہوتی ہے وہ نما ز میں اپنے ہاں کے مانوس طریق ادب و تعظیم کو دیکھ کہ اپنی روح کی تسکین اس میں بدرجہ اولی پاتی ہے۔دیکھو یہ کتنی بڑی خوبی ہے جو اسلام میں پائی جاتی ہے۔باقی قوموں کی عبادتوں میں یہ چیز اتنے لطیف طریق پر نظر نہیں آتی اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور ساری دنیا نے اس میں شامل ہوتا ہے۔پھر اسلامی نماز میں ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ فرض نماز سے پہلے وضو کے علاوہ کچھ نیتی اور نوافل کھردیئے اور بعد میں بھی شستن نوافل او ذکر الہی کی تلقین فرمایا کہ خیال کو جمع کرنے اور دوسری چیزوں سے توجہ ہٹا کر خالصہ اللہ تعالی کے لئے ہو جانے کا موقع انسان کو میسر آتا ہے۔یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ ہر کام وقت سے کچھ پہلے شروع کر دیا جاتا ہے مثلاً ہم نے دس بجے کی گاڑی پر جانا ہے تو آٹھ بجے سے ہی اس کا خیال آنا شروع ہو جائے گا۔ہم روزہ رکھے ہوئے ہیں تو سورج غروب ہونے سے پندرہ میں منٹ پہلے ہی روزہ کھولنے کی تیاری شروع کر دیں گئے۔یہی حال دوسرے کاموں کا ہے یعنی پہلے کام کا انتہ کچھ دیر تک چلا جاتا ہے اور اگلا کام کچھ دیر پہلے شروع ہو جاتا ہے اس لحاظ سے اگر نماز سے پہلے وضو اور بعد میں نوافل وغیرہ نہ رکھے جاتے تو آدھی نمانہ تو پہلے خیالات میں ضائع ہو جاتی اور آدھی دوسر خیالات ہیں۔اس نقص کے ازالہ کے لئے خدا تعالیٰ نے پہلے وضو رکھا اور فرائض سے پہلے سنتیں اور