فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 17 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 17

اور جو کچھ بھی کریں خدا کی رضا کے مطابق کریں اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر اُسے فراموش نہ کریں بینچ اٹھتے ہی نمازہ ہمیں یہی بات یاد دلاتی ہے اس کے بعد ہم کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں لیکن وقفے وقفے کے بعد اس یاد کو تازہ کیا جاتا ہے۔یہاں یہ کہ جب ہم رات کو سونے لگتے ہیں تو آخری بار پھر اسی کا اعادہ ہوتا ہے۔کلام الی اقم الصلوة کذکری » یعنی میری یاد کو تازہ رکھنے کے لئے نماز قائم کہ میں اسی یاد کی طرف اشارہ ہے۔فرین کو مستعدی سے بجالانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو اس کام کی عادت ہو۔فوجوں کو روزانہ بار با نہ قواعد کرانے میں یہی حکمت ہے ورنہ مستعدی باقی نہیں رہ ہے گی اس حکمت کے پیش نظر بھی دن میں متعدد نمازیں فرض کی گئیں تاکہ مسلمانوں کا بار بار امتحان لیا جاتا رہے کہ وہ اپنے دعوی کے مطابق واقع میں بھی مستند مسلمان ہیں یا کہ نہیں۔نمانہ خداوند تعالیٰ کے خوف اور اس کے حاضر و ناظر اور علیم و خبیر ہونے کا یقین آدمی کے دل میں بٹھاتی ہے اور اس یقین کو تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ ہم اپنے کام کاج میں اللہ تعالی کی رضا سے غافل نہ ہوں۔کیونکہ جو شخص بار بار خدا کے حضور میں جاکر یہ اقرار کر سے گا کہ اسے خدا تو تمام خوبیوں کا مالک ہے سب کا پروردگا ر ہے بے انتہاء کریم کرنے والا اور سچی محنتوں کا اجر دینے والا ہے۔جزا و سزا تیرے ہی اختیار میں ہے۔میں تیرا بندہ ہوں۔تجھے اپنا مالک اپنا رازق سمجھتا ہوں۔تیری فرمانبرداری کا دم بھرتا ہوں تو ایسا شخص لازما گنا ہوں سے تائب ہو جائے گا کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کو رب العالمین۔رحمن و رحیم - مالک یوم الدین اور علیم و خبیر با کیم تقدیر بھی یقین کر سے اور پھر برائیاں بھی کرنا پھر سے اور بار بار اس کے دربار میں جانے سے بھی نہ شرمائے۔نماز میں اللہ تعالٰی کے احکام سے واقفیت حاصل کر نے کا بھی موقع ملتا ہے کیونکہ نمانہ میں قرآن پاک کا کچھ نہ کچھ حصہ پڑھا جاتا ہے اس طرح روزانہ اللہ تعالٰی کے کتنے ہی احکام کے متعلق ہمارا اعلم تازہ ہو جاتا ہے اور اسی عمل کرنے کی مزید تحریک پیدا ہوتی ہے۔نماز ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جو کام ہمارے سپرد ہے وہ کسی ایک فرد واحد کے بس کی بات نہیں اس کے لئے اجتماعی قوت درکار ہے۔جب تک سب مل کہ پوری یک جہتی اور کامل اتحاد کے ساتھ اسلام کے غلبہ کی کوشش نہ کریں گے اسلام غالب نہیں ہو گا۔ہر قوم میں کوئی نہ کوئی طریق خدا تعالیٰ کی عبادت کا مقرر ہے مگر ضروری نہیں کہ اس طریق میں کوئی معقولیت اور حکمت بھی ہو لیکن اسلامی طریق عبادت یعنی نماز کے تمام افعال و حرکات با غرض