فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 209
۲۰۹ عَنْ ابْن سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلوةٌ رسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ قَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِى غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشَرَةَ رَكْعَةً يصلي أربعا فلا قتال عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَ ثُمَّ يُصَلِّى اَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا - له یعنی ابو سلمان نے حضرت عائشہ ان سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں رات کے وقت کتنی رکعت نماز پڑھتے تھے۔آپ نے فرمایا رمضان ہو یا غیر رمضان آپ گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔چار رکعت پڑی لمبی اور بڑی عمدگی سے پڑھتے پھر چار رکوت بڑی لمبی اور بڑی عمدگی سے پڑھتے۔اس کے بعد تین وتر پڑھتے۔گویا اٹھ رکعت الگ اور زمین الگ۔ایک اور روایت میں ہے: انَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَرَجَ لَيْلَةٌ مِنْ جَوْنِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِه اس روایت سے ظاہر ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے باقی چونکہ تراویح نفل نماز ہے اس لئے اگر کوئی زیادہ رکعت پڑھنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔چنانچہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ میں لوگ بیس رکعت پڑھنے لگے تھے تاکہ ہر رکعت کی قرأت جلدی جلدی ختم ہو اور ایک ہی رکعت میں لوگوں کو دیر تک نہ کھڑا ہونا پڑے۔کیونکہ لمبی قرأت کی وجہ سے بعض اوقات لوگ تھک جاتے تھے۔تے سوال : - اگر کسی مقام پر حافظ قرآن میسر نہ آئے تو کیا نماز تراویح میں امام کا قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر دیکھ دیکھ کر تلاوت کرنا اور اس طرح نماز پڑھانا درست ہے ؟ ہوا ہے۔تراویح میں قرآن کریم سے دیکھ کہ تلاوت کرنا یا کسی مقتدی کا قرآن دیکھ کر امام کے بولنے پر لقمہ دنیا عام حالات میں مناسب نہیں اسی قرآن کریم کے حفظ کرنے کا شوق کم ہو گا۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو ایسا کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔ہاں اگر مجبوری ہے اور شه بخاری باب قام النبی صل اللہ علی وسلم باليل ته مسلم باب الترغیب فی قیام رمضان ما به ۱۵۴ 1 تفصیل کے لئے دیکھیں نصب الراية في تخريج عاديث الهدایه صدا :