فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 208 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 208

۲۰۸ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اٹھ کر استغفار درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کر ہے ؟ لے نماز تراویح نماز تراویح در اصل تہجد ہی کی نماز ہے صرف رمضان المبارک میں اس کے فائدہ کو عام کرنے کے لئے رات کے پہلے حصہ میں یعنی عشاء کی نماز کے معا بعد عام لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اس نماز کا زیادہ تر رواج حضرت عمر کے زمانہ میں پڑا۔رمضان میں بھی رات کے آخری حصہ میں یہ نماز ادا کرنا افضل ہے۔نماز تراویح میں قرآن کریم سنانے کا طریق بھی صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زمانہ سے چلا آیا ہے۔تراویح کی نماز آٹھ رکعت ہے تاہم اگر کوئی چاہے تو بینی یا اس زیادہ رکعت بھی پڑھ سکتا ہے۔ہر چار رکعت کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سستا لینا مستحب سوال : - تراویح کے متعلق معرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو بینش رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع د تر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے ؟ جو اسے میں فرمایا :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہیں۔اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ایک رات ہے میں ہے کہ آپنے رات کے اول حصہ میں اسے پڑھا۔۲۰ رکعات بعد میں پڑھی گئیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔سے (۲) تراویح کی رکعتوں کے بارہ میں اصولاً یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہمارے نزدیک خاص تعداد کی پابندی ضروری نہیں اگر کوئی آٹھ رکھتوں کی بجائے بنیں رکھتیں پڑھتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمریض کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح بھی پڑھائی گئی ہے لیکن جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوامی عمل کا تعلق ہے آپ اکثر آٹھ رکعت ہی پڑھتے تھے۔اور تہجد کے وقت میں پڑھتے تھے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- مکتوبات احمدیہ حب الحکم اپریل نشده، قنادی مسیح موعود طنت سے :۔مسند احمد مانیل الاوطار حیات ، نصب الرايه ۱ - ۳: البدر هر فروری خنشله ، فتاوی مسیح موعود منت :