فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 210 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 210

۲۱۰ حالات کا تقاضا ہے کہ تراویح کی سنت کا احیاء کیا جائے تو اس شاذ صورت میں اس کی اجازت مرکزہ سے لی جا سکتی ہے۔چنانچہ ایسے ہی حالات کے پیش نظر سابقہ ائمہ میں سے مندرجہ ذیل نے اس طریق کے اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔امام مالک، امام شافعی اور امام احمد - شه بعض اثار میں آتا ہے کہ حضرت عثمان ” جب نفل پڑھتے تو اپنے پاس ایک آدمی کو بٹھا لیتے جب پڑھتے پڑھتے بھول جاتے تو وہ آدمی آپ کو صحیح آیت بتلا دیتا۔اسی طرح حضرت انس ف نوافل پڑھتے ہوئے اپنے غلام کو قرآن کریم دے کر اپنے پہلو میں بٹھا لیتے جب بھولتے تو وہ غلام آپ کو بتاتا جاتا۔کہ اسی طرح حضرت عائشہ کے غلام ذکوان قرآن کریم سامنے رکھ کر نفل نماز پڑھاتے اور حضرت عائشہ بہ مقتدی ہوتیں کہیے پس مجبوری کے حالات میں قرآن سے دیکھ کہ نفل نماز میں قرأة جائز ہے اسی طرح قرآن کریم کے ورق الٹنا اور اس کے لئے ہاتھ سینہ سے ہٹانا بھی جائز ہے۔سوال :۔رمضان کے مہینہ میں اگر مغرب کی نماز میں بارش ہو رہی ہو تو کیا مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع ہو سکتی ہیں جبکہ تراویح کا باقاعدہ انتظام ہو ؟ جواب : رمضان کے مہینہ میں ضرورت کے پیش نظر بمطابق فیصلہ حاضر احباب مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اگر تراویح پڑھنا ہو تو نمازیں جمع کرنے کے معا بعد پڑھی جا سکتی ہیں۔یا جو لوگ ٹھہر سکیں وہ کافی رات گزر نے پر پڑھ لیں۔اصولاً اس تقدیم و تاخیر یں کوئی شرعی امر مانع نہیں۔سوال : نماز تراویح کے اختتام پر جو شیرینی تقسیم کی جاتی ہے بعض احباب اس کو جائز قرار نہیں دیتے اصل حکم کیا ہے ؟ جواب :۔ایسے امور کو رواج نہ ہی دیا جائے تو بہتر ہے کیونکہ دینی معاملہ میں وہی امر قابل اعتماد ہے جس کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہو ورنہ روز نئی نئی بدعات کے درواز سے کھلتے رہیں گے اور بے اصولی بڑھے گی۔نماز کسوف و خسوف سورج گرہن کو کسوف اور چاند گرہن کو خوف کہتے ہیں۔اجرام فلکی میں یہ طبعی تبدیلی انسان کو اس طرف ل كتاب الميزان للشعراني صبا لها كشف الغمه ها و قیام الليل لشيخ محمد بن نصر مزوری به بخاری باب عامة العبد: