فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 207 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 207

اور تین وتر پڑھتے کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے که دورکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھنے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سو جاتے غرض سو کمر اور اُٹھ کر نوافل اس طرح ادا کرتے " لے نوافل میں سے نماز تہجد اعلیٰ ارفع اور سب سے زیادہ مؤکدہ نماز ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس میں بے اندازہ برکات رکھی ہیں اور قرآن پاک میں اس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔نماز تہجد کی آٹھ رکعتیں ہیں اور وتروں سمیت گیارہ رکعتیں۔اس کا وقت نماز عشاء کے بعد سو کہ کسی وقت اُٹھنے سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہے۔اس وقت میں جب چاہے نیند سے بیدار ہو کہ یہ تمہانہ ادا کر سے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ شروع رات میں جلد سو جائے اور پھر رات کی آخری تہائی میں اٹھ کہ یہ نماز ادا کر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں روایت ہے کہ : - كان يصلى ثلاث عشرة ركعة يصلى ثمان ركعات ثم يوتر ثم يصلى ركعتين وهو جالس فاذا اراد ان يركع قام تركع ثم یصلی رکعتین بین النداء والاقامة من صلاة الصبح - له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت کل تیرہ رکعت اس طرح پڑھتے تھے کہ پہلے دو دو کر کے آٹھ رکعت پڑھتے پھر تین وتر پڑھتے پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے اس کے بعد جب اذان ہوتی تو دو رکعت سنت فجر ادا فرماتے۔اگر و تریا تہجد کی نمازہ فوت ہو جائے تو بعد میں کسی وقت ان کی قضاء کی جا سکتی ہے۔یہ قضاء جائزہ اور موجب ثواب ہے۔ضروری نہیں۔تے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " تہجد کے فوت ہونے یا سفر سے واپس آکر پڑھنا ثابت ہے۔لیکن تعبد میں کوشش کرنا اور کریم کے دروازے پر پڑے رہنا مین سنت ہے۔وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لعَلَّكُمْ تُفْلِحُون لم ۲۸۳ له : - الحکم اپریل سنشاه ، فتاوی مسیح موعود مت : : مسلم ص ۲۱ طه ه: انیل الاوطار باب قضاء مالفوت من الوتر والسنن الخصب ہے (۲) نیل الاوطار ما جاء في قيام الليل من : :- سورۃ انفال آیت ۴۶ : : - مکتوبات احمد یہ جلد اول صنت فتاوی مسیح موعود طلا