فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 199 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 199

194 نماز وتر سے تعلق فتاوی ایک نماز دو تہ کہلاتی ہے اس نماز کی بھی مغرب کی طرح تین رکعتیں ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ مغرب کی نماز میں پہلے تشہد کے بعد جو تیسری رکعت پڑھی جاتی ہے اس میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی زائد تلاوت نہیں کی جاتی۔لیکن وتر کی نماز میں تیسری رکعت میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی چند آیات یا کوئی چھوٹی سورۃ پڑھی جاتی ہے۔دوسرا فرق اس میں یہ ہے کہ نما نہ وتر کو مغرب کی نماز کے برخلاف دو حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔یعنی یہ بھی جائز ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت الگ پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیرا جائے۔اے سوال : کیا و تراس طرح پڑھے جا سکتے ہیں کہ تینوں رکھتیں اکٹھی پر بھی جائیں اور درمیان میں دو رکعتوں کے بعد تشہد نہ بیٹھا جائے ؟ جواہ :- وتر کا زیادہ صحیح طریق یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر تشہد بیٹھے پھر سلام پھیر دے۔پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت پڑھے اور التحیات کے بعد سلام پھیرے یا دوسری رکعت کا تشہد پڑھ کہ کھڑا ہو جائے اور تیسری رکعت پڑھے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔لہ سوال : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا وتر پڑھنے کا کیا طریق تھا ؟ ہواہے : تفسیر القرآن مؤلفہ سید سرور شاہ صاحب کے منڈا پر حضور کے وتر پڑھنے کا طریق ہوں درج ہے " وتروں کی نسبت بہت سوال ہوتا رہتا ہے کہ ایک پڑھا جائے یا تین اور یہ بھی اگر تین ہوں تو پھر کس طرح پڑھے جائیں تو ان میں حضور کا حکم یہ ہے کہ ایک رکعت تو منع ہے اور تین اس طور پر پڑھتے ہیں کہ دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھ کر سلام پھیر دیتے ہیں اور پھر اُٹھ کر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور کبھی دو کے بعد التحیات پڑھتے ہیں اور سلام پھیرنے سے پہلے اُٹھ کر تیسری رکعت پڑھتے ہیں۔سے له : تفسير سورة بقره تفسير كبير جلد اول ص : - الفضل ۱۵ ار ستمبر ۱۹۳۵ : سے : مجموعه فناوی من :