فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 198
۱۹۸ اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي نِيْمَنَ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيْمَنُ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقَفِى وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ إِنَّهُ لا يُذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَإِنَّهُ لَا يُحِزُّ مَنْ مَا دَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ نَسْتَغْفِرُكَ وَنَتُوبَ إِلَيْكَ وَصَلَّى اللهُ عَلَى النَّبي له یعنی اسے میرے اللہ مجھے ہدایت دے کہ ان لوگوں میں شامل کر جن کو ہدایت دینے کا تو نے فیصلہ کیا ہے۔اور مجھے سلامت رکھ کر ان لوگوں میں شامل کہ جن کو سلامت رکھنے کا تو نے فیصلہ کیا ہے۔اور مجھے دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل کہ جن کو دوست بنانے کا تو نے فیصلہ کیا ہے اور مجھے برکت دے ان العامات میں جو تو نے دیئے ہیں۔اور مجھے بچا ان چیزوں کے نقصان سے جو تیری تقدیر میں نقصان دہ قرار دی گئیں ہیں۔کیونکہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیری مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔سو وہ شخص ذلیل و خوارہ نہیں رہ سکتا جس کا تو دوست ہے۔اور نہ وہ عزت پاسکتا ہے جس کا تو دشمن ہے۔اسے ہمارے رب تو برکت والا اور بلند شان والا ہے اسے اللہ ہمار سے نبی پر خاص فضل فرما جن کے ذریعہ سے ہمیں ایسی عمدہ دعاؤں کا علم حاصل ہوا۔- اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَنَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوا رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ ملحق لله وتروں کا وقت نماز عشاء سے لیکر طلوع فجر تک رہتا ہے تاہم سونے کے بعد رات کے آخری حصہ میں اُٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد وتر ادا کرنا افضل ہے۔اگر رات کے آخری حصے میں اٹھنے کی عادت نہ ہو تو عشاء کے بعد ہی وتر پڑھ لینے بہتر ہیں۔دتر اکیلے پڑھے جاتے ہیں۔البتہ رمضان المبارک میں وتر کی نمانہ تراویح کی طرح باجماعت پڑھنا بھی مشروع ہے کیے ا نسائی باب الدعا فی الوتر ص ، ابو داؤد ص ب له الف - قيام الليل ١٣٣٥ الشيخ محمد بن نصر المروزی متوقى شته ب - اخرجه محمد بن نصر في كتاب قيام الليل بحوالہ تحفة الفقها باب صلاة الوتر ۳ مطبوعہ دار الفکر دمشق - :- نور الايضاح باب الوتر ص ا ب