فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 181
تین تکبیریں قرآہ کے بعد اور رکوع سے پہلے کہتے تھے۔اس سلسلہ میں یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ صحابہ کرام کے اس قسم کے عمل کے متعلق اصول یہ ہے کہ صحابہ کے یہ اعمال ان کی ذاتی رائے کی بناء پر نہیں بلکہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عمل یا حضور کے کسی ارشاد سے یہ امر اخذ کیا ہے۔بہر حال جماعت احمدیہ کا مسلک حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے مطابق ہے۔لیکن اس کے باوجود اگر کسی احمدی نے دوسری رکعت میں سہوگا یا کسی اور وجہ سے قرأۃ کے بعد تکبیریں کہی ہیں تو یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اس کا عمل اسلامی روایات کے خلاف اور نا جائزہ ہے۔البتہ اس طریق کو دستور العمل نہیں بنانا چاہیے کیونکہ ایسا کہ نا عبادات میں جماعت کی عملی یکجہتی کے خلاف ہے۔سوال: نماز عید کی تکبیروں کا ثبوت کیا ہے ؟ جو ا ہے : کسی مسئلہ کا ثبوت دو طرح سے ہوتا ہے یا تو قرآن کریم میں اس کا ذکر ہو یا حدیث سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی وضاحت کی گئی ہو۔چنانچہ عیدین کی تکبیرات کی تعداد کا ثبوت قرآن کریم سے اجمالاً اور حدیث رسول سے تفصیلاً ہمیں ملتا ہے۔ترندی و ابن ماجہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قرأت سے پہلے کہا کرتے تھے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- إن النبى صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأَوَّلِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَأَة - له سوال :۔عید کی نماز کے بعد امام ایک خطبہ پڑھے یا جمعہ کی طرح دو خطبے۔خطبہ کے بعد دعا کے بارہ میں کیا حکم ہے ؟ جوا ہے۔عیدین میں بھی اسی طرح دار خطبے پڑھنے چاہئیں جس طرح جمعہ میں دو خطبے ہوتے ہیں۔حدیث سے ایسا ہی ثابت ہ ہے۔ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- ه ترندی کتاب الصلواة باب التكبير في العيدين من جلد اول ، ابن ماجہ باب ما جاء في كم يک بر الامام في مه له :- عن جابر قال خرج رسول اللہ صلی الله عليه وسلم يوم فطر صلوة العيدين صك او اضحى فخطب قائما ثم قعد قعدة ثم قام و ابن ماجہ باب في الخطبة في العيدين من :