فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 182 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 182

١٨٣ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ السُّنَّةُ مَنْ يَخْطُبَ الإِمَامُ فِي الْعِيْدَيْنِ لبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجَلوم - رواه الشافعي - ام دوسرے خطبہ کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دکھا کہ نا ضروری نہیں۔یعنی یہ جز و خطبہ نہیں تاہم اگر کوئی اس طرح ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگے تو یہ جائز ہے اور مرکز میں اس کے مطابق عمل ہے۔لیکن اس کا التزام حدیث اور سنت سے ثابت نہیں اس لئے دوسرے خطبہ کے بعد اگر کسی جگہ ہاتھ اُٹھا کر دعانہ مانگی جائے تو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے۔قربانی کے مسائل قربانی صاحب استطاعت کے لئے سنت کے مؤکدہ اور واجب ہے اور اس میں ایک حکمت یہ ہے کہ قربانی دینے والا اشارہ کی زبان میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ جس طرح یہ جانور جو مجھ سے اونی ہے میرے لئے قربان ہو رہا ہے۔اسی طرح اگر مجھ سے اعلیٰ چیزوں کے لئے میری جان کی قربانی کی ضرورت پڑے گی تو ہیں اُسے بخوشی قربان کر دوں گا۔غرض قربانی ایک تصویری زبان ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے والا اپنے نفس کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔قربانی کے لئے اُونٹ، گائے، بکری، بھیڑ، دنبہ۔ان میں سے کوئی سا جانور ذبح کیا جاسکتا ہے اونٹ اور گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور بھیڑ بکری وغیرہ ایک آدمی کی طرف سے کافی ہے اور انسان قربانی کی نیت میں اپنے کنبہ کو بھی شامل کر سکتا ہے سیکے اونٹ تین سال ، گائے دو سال اور بھیڑ بکری وغیرہ ایک سال کی کم از کم ہونی چاہئیے۔ڈنبر اگر موٹا تازہ ہو تو چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔قربانی کا جانور کمزور اور عیب دار نہیں ہونا چاہیئے۔لنگڑا۔کان کٹا۔سینگ ٹوٹا اور کانا جانور جائز نہیں۔اسی طرح بیمار اور لاغر کی قربانی بھی درست نہیں لیکے ے نیل الاوطار باب خطبته الحيد واحكامها هي : # له : - عن ابن سیرین قال سألت ابن عمر عن الضحايا أواجبة هى قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمي من بعده وجرت به السنة وابن ماجه ص ۲۳) سد : ترندی ابواب الاضاحی باب في الاشتراك في الاضحيه ملا ، ابن ماجه ۳۲۵ باب من ضحى بشأة عن اهله به که :- جامع ترمذی باب مالا يجوز من الاضاحي :