فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 169 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 169

149 سوال : کیا عورتیں علیحدہ جمعہ کی نماز پڑھ سکتی ہیں اور اس کا طریق کیا ہوگا۔نماز با جماعت کی صورت میں عورت اقامت کہہ سکتی ہے ؟ جواب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں ہمیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ عورتوں نے الگ جمعہ یا عید کی نماز پڑھی ہو۔سنت بھی یہی ہے کہ مرد اور عورتیں بل کہ ایک جگہ جمعہ یا عید پڑھیں۔تاہم عورتیں چونکہ بوقت ضرورت الگ نمازہ یا جماعت پڑھ سکتی ہیں اس لئے اصولی طور پر باجازت مرکز حسب ضرورت کبھی کبھی ان کے لئے علیحدہ جمعہ یا عید کی نماز پڑھنے میں بھی بظا ہر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اسے ایک منتقل عادت نہ بنا لیا جائے جمعہ یا نماز با جماعت کی صورت میں عورت اقامت بھی کہہ سکتی ہے لیکن ان میں جو عورت امامت کرائے وہ صف کے آگے کھڑی ہونے کی بجائے پہلی صف کے درمیان میں کھڑی ہوئی۔اسی قسم کے ایک سوال کے ضمن میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (1) اگر کوئی خاص مجبوری ہو تو اس کی بناء پر عورتوں کو علیحدہ اکٹھے ہو کہ جمعہ پڑھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے تا کہ اُن میں دینی روح قائم رہے لیکن اگر عام حالات میں بھی ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو مردوں اور عورتوں میں اختلاف پیدا ہونے کا امکان ہے۔مردوں کے خیالات اور طرف جا رہے ہوں گے عورتوں کے اور طرف اس لئے عام حالات میں حکم یہی ہے کہ مرد اور عورتیں ایک مقام پر جمعہ کا فریضہ ادا کریں " سے (۳) علامہ ابن قدامہ اپنی مشہور کتاب المعنی میں لکھتے ہیں :- قال ابن المنذر ا جمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم ان لا جمعة على النساء واجمعوا على انهن اذا حضرن فيصلين الجمعة أن ذلك يجزى عنهن لان اسقاط الجمعة للتخفيف عنهن فاذا تعملوا المشقة وصلوا اجزاهم كالمريض - ۵۳ : قیام الليل باب المرأة تؤم النساء بشيخ محمد بن نصر المروزي ها : له : - الفضل اکتوبر ۱۹ : ه : المغنی لابن قدامه ۲ +