فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 168
IYA الجمعة واجبة على كل قرية وان لم يكن فيها الا اربعة " ل ظاہر ہے کہ اس جواب کے بعد یہ بحث بے کار ہو جاتی ہے کہ شہر کی کیا حدود ہیں اور اسکی مضافات کیا ہیں۔فوجی نقل و حرکت کے دوران میں جمعہ کی نماز کے بارہ میں ہدایت یہ ہے کہ اگر فوج مع امیر عساکر کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالے ہوئے ہو جو قریہ یا شہر کا حکم رکھتی ہو اور وہاں جمعہ پڑھا جا سکتا ہو تو دیاں فوج بھی جمعہ کی نمازہ پٹڑ ھے در نہ ضروری نہیں۔ابراہیم نفی کہتے ہیں :- كانوا لا يَجْمَعُونَ فِي الْمَسَاكِيرِ" له کیا جمعہ کی نماز دو آدمیوں سے ہو سکتی ہے سوال : - حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی خدمت میں سوال ہوا کہ کسی گاؤں میں اگر دو احمدی ہوں، یا ایک مرد اور کچھ عورتیں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ ؟ جواہ :۔حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا : ہاں پڑھ لیا کریں فقہاء نے تین آدمی تھے ہیں اگر کوئی اکیلا ہوتو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔سے صاحب نیل الاوطار اس بارہ میں فقہاء اسلام کے مسلک پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- من قال انها تصح باثنين فاستدل بان العدد واجب بالحديث والاجماع و راى انه لم يثبت دليل على اشتراط عدد مخصوص و قد صحت الجماعة فى سائر الصلوات باثنين ولا فرق بينها وبين الجماعة ولم يأت نص من رسول الله صلى الله عليه وسلم بان الجمعة لا تنعقد الا بكذا وهذا القول هو الراجح عندي له :۔سنن الكبرى بيهقى ميا : : - اوجز المسالک شرح موطا امام مالک ۶۳۵۰ الحکم، درمان نشاء بداره ستم له الفضل ، سورسٹی شاه ، و در جنوری ۳ار ، فتاری مسیح موعود هنا : نیل الاوطار من باب العقاد الجمعه باربعين واقامتها في القوى + :