فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 170
160 خطبہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے۔۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :- ا کہ - اسلامی سنت تو ہی ہے ک خطبہ کھڑے ہوکر پڑھ جائے کریں کچھ دنوں سے تیار ہوں کھڑا نہیں ہو سکتا۔حضور اس وقت کرسی پر بیٹھے تھے ؟ ۲ - چونکہ مجھے نقرس کا دورہ ہے اس لئے میں خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا ابتداء میں یہ حکم تھا کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کریں لیکن بعد میں خدا تعالٰی کی ہدایت کے ماتحت آپؐ نے اس حکم کو بدل دیا اور فرمایا کہ اگر امام کسی معذوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی نہ بیٹھیں بلکہ وہ کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کیا کریں۔پس چونکہ میں کھڑے ہو کہ نماز نہیں پڑھا سکتا اس لئے میں بیٹھے کہ نماز بیٹھاؤں گا اور دوست کھڑے ہو کر نماز ادا کریں۔خطبہ کا اختصار سوال: کیا یہ ہدایت ہے کہ جتنا وقت خطبہ پر لگے اس سے آدھا وقت نماز پر صرف ہو ؟ جوا ہے :- عام اصول یہ ہے کہ خطبہ چھوٹا اور نماز لیبی ہو۔سوائے اس کے کہ کوئی خاص قومی ضرورت لمبے خطبہ کی مقتضی ہو۔یا خلیفہ وقت خود ایسا کرنا ضروری سمجھیں کیونکہ خلیفہ وقت قوم کی بہبود کے مرکزی ذمہار ہوتے ہیں اور جماعت کا وقت ان کے وقت کے تابع ہوتا ہے۔یہ ایک مخصوص حق ہے جس کا کوئی دوسراعلی الاطلاق حقدار نہیں۔خطبہ کے بارہ میں عام ہدایت اس حدیث سے ظاہر ہے :- له :- انبا جعل الامام ليؤتم به۔۔۔۔۔اذا صلى جالسًا فصلوا جلوسا اجمعون قال ابو عبد الله قال الحميدي قوله واذا صلى جالسا فصلوا جلوسا هو فى مرضه القديم ثم صلى بعد ذلك النبي صلی الله عليه وسلم جالسا والناس خلفه قياد لم يأمرهم بالقعود وانما يؤخذ بالاخر فالاخر من فعل النبي صلى الله عليه وسلم۔(بخاری کتاب الصلاة باب انما جعل الامام ليرتم به شه) -۲- عن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه وابو بكر يصلي بالناس تملى جنب ابى بكر و الناس ياتمون بابي بكر وابو بكر يأتم بالنبي صلى الله عليه وسلم (تریدی كتاب الصلوة باب اذا صلى الامام فاعدامث ) : - الفضل یکم اپریل شاه و ۳ جولائی ۹۵ائرة 1410