فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 167
جمعہ نہیں ہوگا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی ہے وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سُنا ہے حضور نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہوگا۔حضرت خلیفتہ ایسی اول یوں تو ان دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں اس لئے کہا حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں آتا ہوگا مگر ہم تو سفر یہ ہیں۔ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور میں نے بہت دفعہ جمعہ پڑھایا بھی ہے آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہوگا۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں " اے غرض جمعہ کی نمازہ ہر جگہ ہو سکتی ہے۔سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔نہ اس کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے نہ اقامت۔جو از جمعہ کے لئے صرف ایک شرط ہے کہ امن وامان اور نظم و ضبط قائم رکھا جاسکے۔لوگوں میں تمدن اور مل جل کر رہنے کا شعور ہوتاکہ زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے گڑ بڑ کا خطرہ نہ ہو۔البتہ ایک بات ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جمعہ فرض اُسی وقت ہو گا جبکہ انسان مقیم ہو تندرست ہو حالات پر امن ہوں اور اتنے لوگ جمع ہو سکیں جو جماعت کے لئے ضروری ہیں ورنہ بصورت دیگر جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے۔جمعہ کی نمازہ فرض ہونے کے معنے یہ ہیں کہ جمعہ ضروری ہوگا۔اور اس کی بجائے ظہر کی نماز جائنہ نہ ہوگی۔امام بیہقی کی روایت ہے کہ والی بحرین نے حضرت عمریضہ کی خدمت میں سکھا کہ جمعہ کے لئے آیا کسی خاص مقام شہر گاؤں وغیرہ کی شرط ہے یا نہیں۔اس پر آپ نے اس والی کو لکھا کہ تم جہاں بھی ہو وہیں جمعہ پڑھ سکتے ہو۔یعنی اس کے لئے سفر یا حضر کی کوئی شرط نہیں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- " ان اجمعواجيت ماكنتم " کے اسی طرح بیہقی کتاب الجمعہ میں روایت ہے :- ۱۵۴۴۲ له الفضل ۲ جنوری ئه و ۱۶ اکتوبر انتمائه له : - ازالة الخفاء منه - نقد عمر مت ، :