فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 166 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 166

بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔یہ امر بے شک درست ہے کہ جمعہ کے وجوب کے لئے بعض ایسی شروط ہیں کہ جن کے بغیر جمد صحیح نہیں ہوتا۔مثلاً جمعہ کے لئے جماعت ایک ایسی حتمی شرط ہے کہ اس کی بغیر جمعہ درست نہ ہوگا۔ایک شخص ( فرد واحد) کے لئے جمعہ کا پڑھنا درست نہیں وہ جمعہ کی بجائے ظہر پڑھے اسکی علاوہ بعض اور بھی مناسب شرائط ہیں جو وجوب جمعہ کا باعث بنتی ہیں لیکن ان میں سے بعض کے فقدان کے باوجود اگر کوئی جمعہ پڑھے تو اس کا جمعہ فرض کی صورت میں ادا ہو گا اور وہ ظہر کی نمازہ کے قائمقام بنے گا۔مثلاً عورت، مریض ، مسافر اور غلام پر جمعہ واجب نہیں لیکن اگر وہ جمعہ پڑھیں تو ان کی طرف سے یہ بحیثیت فرض ادا ہو گا اور ان کے لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ اس کے بعد ظہر کی نماز بھی پڑھیں۔سفر اور جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : دوستوں میں یہ اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتوی ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی ، پچھلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر یا عصر جمع ہوں تو درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی۔لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں۔یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل جو سنتیں پڑھا کرتے تھے میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں ان کو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی جائز ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ آج