فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 10 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 10

بدیلوں سے پاک ہو جائے اور اُسے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ مختلف قسم کے ہوا و ہوس کو چھوڑنے کے قابل ہو جائے۔ایک طرف اللہ تعالٰی سے اس کے تعلقات درست ہو جائیں اور دوسری طرف مخلوق الہی سے اس کے معاملات بالکل درست اور صاف رہیں یہ عبادت کے دو حصے ہیں ایک خدا کا خوف اور دوسرے خدا سے محبت۔یہ دونوں باتیں انسان کو پاکیزگی کے چشمہ کی طرف لے جاتی ہیں اور اس کی روح گداز ہو کر الوہیت کی طرف بہتی ہے اور عبودیت کا حقیقی رنگ اس میں پیدا ہو جاتا ہے اور دنیا کی ساری محبتوں کو فانی اور آنی سمجھ کر وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو دنیا میں حقیقی محبوب یقین کرنے لگ جاتا ہے۔خوف اور محبت دو ایسی چیزیں ہیں کہ بظاہر ان کا جمع ہونا محال نظر آتا ہے کہ ایک شخص جسے خوف کرے اس سے محبت کیونکہ کر سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ایک الگ رنگ کھیتی ہے جس قدر انسان خُدا کے حروف میں ترقی کرے گا اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہوگر بدیوں اور اور برائیوں سے نفرت دلا کہ پاکیزگی کی طرف لے جائے گا۔اور جوں جوں وہ محبت الہی میں ترقی کرتا جائے گا عبادت میں اُسے ایک لذت و سرور حاصل ہوگا ہاں ایسی لذت اور ایسا سرور جو دنیا کی تمام لذتوں اور تمام خطوظ نفس سے بالا تر اور بلند ہے۔(۲) اسلام عبادت کو چار اصولی اغراض میں تقسیم کرتا ہے :- (۱) وہ عبادت جس کی غرض اللہ تعالٰی کے ساتھ محبت اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانا ہے۔، وہ عبادت جو انسان کے جسم کی اصلاح اور اُسے قربانیاں دینے پر آمادہ کرنے کیلئے ہوتی ہے اور جس سے روح ایک خاص جلاء حاصل کرتی ہے۔(۳) وہ عبادت جو انسانوں کے اندر مرکزیت کی روح اور اتحاد ویگانگت کا احساس پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔(۴) وہ عبادت جو بنی نوع انسان کی اقتصادی حالتوں میں یکسوئی اور یک رنگی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔اسلام عبادت کی یہ چارہ اصولی اغراض مقرر کرتا ہے اور ان اغراض کے مطابق اس نے مختلف عبادتیں مقرر کی ہیں اور اس اصول کو تجویز کر کے اسلام نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ عبادت صرف اسی بات کا نام نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف دھیان لگائے بلکہ بنی نوع انسان کی طرف توجہ کرنے سے بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا فرض ادا ہوتا ہے۔اسی طرح اسلام نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ ب : - تفسير كبير ملخصاً ٣٣٣٥