فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 11 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 11

عبادت صرف انفرادی نہیں بلکہ وہ اجتماعی بھی ہوتی ہے۔انسان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائے بلکہ انسان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو بھی خدا کے سامنے پیش ہونے کے لئے تیار کر رہے۔اس لئے قرآن کے جتنے احکام عبادات کے متعلق ہیں وہ انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی۔لہ اسلامی عبادت کی اقسام اصولی طور پر عبادت دو قسموں میں منقسم ہے۔عام عبادت اور خاص عبادت۔عام عبادت کا تعلق بالعموم حقوق العباد سے ہے۔اس لحاظ سے انسان جو کام بھی خواہ وہ ذاتی ہو یا اجتماعی۔خدا وند تعالیٰ کی خاطر اور اُس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کہ سے اور وہ خدمت انسانیت سے متعلق ہو اسلامی نظریہ کے مطابق وہ عبادت ہے اور اس پر ثواب اور نیک جزا کا وعدہ دیا گیا ہے مگر اسی نقطہ مرکزی کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتے، اسے اپنی عادت بنا لینے اور عبادت کے بنیادی مقاصد کو صحیح معنوں میں حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص عبادت کا بھی حکم دیا ہے۔یہ خاص عبادت پانچ حصوں میں منقسم ہے جنہیں ارکان اسلام کہتے ہیں یعنی اسلام کے ایسے ستون جن پہ اسلام کی عمارت استوار ہے۔ارکانِ اسلام ارکان اسلام میں سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے۔یعنی یہ اعتراف کرنا اور گواہی دیا کہ اللہتعالیٰ کے سوا کوئی معبود و محبوب نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں وہی اللہ تعالیٰ کا پیغام لائے ہیں اور اسلام کے سارے احکام انہوں نے ہی آکر بتائے ہیں۔ان الہ کان میں سے دوسرا رکن نماز پڑھنا۔تیسرا زکواۃ دینا۔چوتھا رمضان کے روزے رکھنا اور پانچواں خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ جانا یعنی حج کرنا ہے۔اسلام کے ان پانچوں ارکان کی تفصیل سید نا حضرت عمرض کی ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے جس میں آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام نہ کے درمیان تشریف فرما تھے ۴۵۲ لے: دیباچہ تفسیر القرآن ص :