فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 102 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 102

١٠٣ فجر کی دو رکعت سنتیں فرض نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہیں۔یہ دور کھتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پڑھیں اور ان کے پڑھنے کی تاکید فرمائی۔اس لئے اگر کوئی شخص جماعت میں شامل ہو جائے یا کسی اور وجہ سے فجر کے فرضوں سے پہلے یہ سنتیں نہ پڑھ سکے تو فرضوں کے معا بعد پڑھ لے یا پھر سورج نکلنے کے بعد اور دوپہر ہونے سے پہلے پڑھے۔ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت اور فرض پڑھنے کے بعد دو رکعت نماز سنت مغرب کے فرضوں کے بعد دو رکعت اور عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت نماز سنت ہے۔(۴) نفل نماز ہے۔تہجد کی آٹھ رکعت۔عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت ظہر کی دو سنتوں کے بعد دو رکعت۔مغرب کی سنتوں کے بعد دو رکعت۔مغرب کی اذان کے بعد اور فرضوں سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کی روایات بھی آئی ہیں۔اس کے علاوہ حسب موقع و فرصت مغرب کی دو رکعت سنت اور دو نفل کے بعد چھ رکعت مزید نفل پڑھنے کی روایت بھی آتی ہے۔ان چھ رکعتوں کو سلاۃ الاوابین کہتے ہیں۔اسی طرح عشاء کی سنتوں کے بعد دو رکعت اور وتروں کے بعد دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھنے کی روایت بھی آتی ہے۔اشراق یعنی چاشت کے وقت کی دو رکعت ضحی یعنی دھوپ خوب چمک آنے کے وقت اور دوپہر سے قبل دو تا آٹھ رکعت تحیۃ الوضو یعنی وضو کرنے کے بعد حسب موقع و فرصت دو نفل۔تحیة المسجد یعنی مسجد میں داخل ہونے پر دو نفل نماز استخارہ یعنی طلب خیر کے دو نفل جو کسی کام کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔حاجت روائی کی دعا کے دو نفل یعنی صلواۃ الحاجت تحیر الشکر یعنی اچانک خوشی پہنچنے پر سجدہ شکر بھی کیا جاتا ہے۔تو بہ کے دونفل - سفر سے واپسی کے دو نفل۔اس کے علاوہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت دو رکعت نمازہ مسنون ہے۔اسی طرح قحط سالی کے دور ہونے کے لئے دو نفل جسے صلوٰۃ الاستسقاء کہتے ہیں۔صلواۃ التسبیح کی بھی ایک روایت موجود ہے۔اس کے علاوہ بھی جب موقع ملے اور دل کرے نفل نماز پڑھنا باعث ثواب ہے سنت اور نفل نماز اصولا گھر میں ہی پڑھنی چاہیے۔سنت اور نقل کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور اس کے بعد قرآن پاک کا کچھ حصہ پڑھنا عینی ضم سورۃ ضروری ہے اور اگر بھوں سے رہ جائے تو سجدہ سہو لازمی ہوگا۔سنن اور نوافل فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔بعض اوقات فرض کی ادائیگی میں کوئی غلطی یا کمی رہ حیاتی بعض تو ان کی تشریح آئندہ صفحات میں آئے گی۔