فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 103
ہے تو اس کی تلافی سنن اور نوافل کے ذریعہ ہو جاتی ہے۔نوافل قرب الہی کا ذریعہ ہیں۔فرضوں سے ایمان قائم ہو جاتا ہے اور نوافل اس کے استحکام کا موجب بنتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نوافل کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقرب بن جاتا ہے۔تعدا د ر کھاتے کا اجمالی خاکہ وقت نماز فرض واجب سنت نقل کل تعداد در استان فجر کی سنتیں سے زیادہ کر رہیں وتر y+r ۱۲ A ۱۳ A چار سنتیں فرضوں کیلے اور دو بعد چار رکعت نفل فرضوں سے پہلے۔رکعت صلواة الدامين ۲ رکعت نقل سنت کے بعد اگر چه مستند مسلک یہی ہے کہ و تر رات کی آخری نماز ہو تاہم و تمر کے بعد دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھنے کی روایت بھی آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پچھلی رات اُٹھ کر تہجد کی نماز پڑھی ہے۔یہ نماز پڑھنے سے بے حد تو اب ملتا ہے۔اس لئے اس نماز کو سنت مؤکدہ کہنا چاہیے لیکن حرج سے بچانے کی خاطر چونکہ ہر فرد کے لئے اسکا پڑھنا ضروری قرار نہیں دیا گیا اس لئے ہم نے اسے نفلوں میں شمار کیا ہے ورنہ در حقیقت یہ سنن ندی میں شامل ہے۔وتر عشاء کی نماز کے بعد بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن اگر تہجد کی نماز کے لئے اُٹھنا ہو اور اسکی عادت ہو تو پھر وتر تہجد کی نماز کے بعد پڑھنے چاہئیں اس طرح تہجد کے وقت ۸ + ۳ = گیارہ رکعت نماز ہوگی اور اگر وتر کے بعد دو نفل بھی پڑھے تو کل تیرہ رکھتیں ہوں گی۔