فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 100
معلوم ہوا کہ رکوت یا رکعت کا کوئی حصہ رہ گیا ہے تو پہلے وہ اس حصہ کو پورا کر سے اس کے بعد تشہد وغیرہ پڑھ کر سجدہ سہو کر ہے۔اس طرح سے اس کی نماز مکمل ہو جائے گی۔اسی طرح اگر رکعتوں کی تعداد میں شک پڑ جائے۔مثلاً یہ پتہ نہ چلے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو۔تین پڑھی ہیں یا چار تو کمی کے پہلو کو اختیار کیا جائے اور اس کے مطابق مزید رکعتیں پڑھی جائیں اس کے بعد نماز کے آخر میں سجدہ سہو کیا جائے۔امام اگر ایسی غلطی کرے جس سے سجدہ سہو ضروری ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ مقتدیوں کے لئے بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔لیکن اگر صرف مقتدی سے ایسی کوئی غلطی ہو تو امام کی اتباع کی وجہ سے اس کی غلطی قابل مواخذہ نہیں ہوگی اور اس کے لئے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔