فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 99 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 99

۹۹ جوا ہے :۔نمازی کے سامنے سے اگر گنا گزر جائے تو اسکی نماز ٹوٹتی نہیں۔جس حدیث کی طرف آپ کا ذہن گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کتے یا اس قسم کی موزی چیز کے گزر جانے سے طبیعت میں جو ہیجان یا اضطراب کی کیفیت بعض اوقات پیدا ہو جاتی ہے اُس سے نماز ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔گویا یوں فرمایا کہ ایسی صورت میں نمازہ ٹوٹی کہ ٹوٹی۔اس لئے ان چیزوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھو۔سجدہ ہو نماز میں اگر کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جہ سے نماز میں شدید نقص پڑ جائے مثلاً ہو ا فرض کی ترتیب بدل جائے یا کوئی واجب جیسے درمیانی قعدہ رہ جائے یا رکعتوں کی تعداد میں شک نیر جائے تو اس غلطی کے تدارک کے لئے دو زائد مسجد سے کہ نے ضروری ہیں اس کو سجدہ سہو کہتے ہیں یعنی بھول چوک کے تدارک کا سجدہ۔یہ دراصل دو مسجد سے ہوتے ہیں جو نماز کے آخری قعدہ میں تشہد - درود شریف اور دعاؤں کے بعد کئے جاتے ہیں۔جب آخری دُعا ختم ہو جائے تو تکبیر کہہ کر دو سجدے کئے جائیں اور ان میں تسبیحات سجدہ پڑھی جائیں اس کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔سجدہ سہو کرنے سے دراصل اس اقرار کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ بھول چوک اور ہر قسم کے نقص سے صرف رب العزت کی ذات پاک ہے انسان کمزور ہے۔اس کی اس غلطی سے در گذر فرمایا جائے اور اس کے بدنتائج سے اُسے بچایا جائے۔غرض سجدہ سہو واجب کے ترک یا رکن میں تاخیر کرنے سے ضروری ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر رکوع یا۔سجدہ بھول کر چھوڑ دے۔نمازہ کے دوران میں یا بعد اُسے یاد آجائے تو اس کو چاہیے کہ تشہد سے پہلے اس رکن کو پورا کر سے پھر تشہد اور درود شریف وغیرہ پڑھے اس کے بعد اس تاخیر کے تدارک کے طور پر سجدہ سہو کرے اسی طرح واجب کے رہ جانے سے بھی سجدہ سہو ضروری ہو جاتا ہے۔مثلاً جن رکعتوں میں اونچی آواز سے قرات پڑھنی تھی اُن میں اونچی آواز سے نہ پڑھی یا سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورة ياسورۃ کا کوئی حصہ نہ پڑھا یا درمیانی قعدہ بھول گیا یا رکھتوں کی مقررہ تعداد سے زائد رکھتیں پڑھ لیں تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔اور سجدہ سہو کرنے سے اس کمی یا غلطی کا تدارک ہو جائے گا۔ایک شخص نے یہ خیال کر کے کہ نماز پوری ہو چکی ہے سلام پھیر دیا۔لیکن ابھی مسجد میں ہی تھا کہ