فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 97 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 97

9< ہے سلام بلند آواز سے کہے یا آہستہ آواز سے حسب طبیعت عمل کر ہے۔ہاں نمازی جواب نہ دیں۔سوال: - ایک نابینا شخص نماز با جماعت میں میرے ساتھ کھڑا تھا۔چوتھی رکعت میں وہ التحیات بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہونے لگا۔میں نے کپڑا کھینچ کر اُسے بٹھا دیا۔کیا میرے اس فعل سے نماز تو خراب نہیں ہوئی ؟ جواب : جو صورت آپ نے بیان کی ہے وہ جائز ہے اس کی نماز میں حرج واقع نہیں ہوتا کیونکہ بوقت ضرورت معمولی حرکت ناقض نماز نہیں۔مثلاً اگر کوئی باہر دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو تو سبحان اللہ کہ کہ اُسے مطلع کرنا کہ زمانہ میں ہوں یا اگر قریب ہے اور ضروری معلوم ہوتا ہے تو چل کر کنڈ اکھوں دنیا یا اگر بچہ ہے تو اُسے شرارت کرنے سے معمولی طور پر روکنا یا اگر رورہا ہے اور پاس ہے تو اُسے اُٹھا لینا یہ سب امور ضرورت پر منحصر نہیں۔بشرط ضرورت ان سے نمازہ نہیں ٹوٹتی۔سوال : مسجد میں نمانہ ادا کرنے والوں کے سامنے سے بعض لوگ غلطی سے گزر جاتے ہیں۔کئی نمازی انہیں ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بارہ میں صحیح مسلکہ کیا ہے ؟ جواب : نماز پڑھنے والے کے آگے سے گزرنا گناہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔لو يعلم المار بين يدى المصلى ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خير الله من ان يمر بين يديا - (بخاری) که اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جانتا کہ اُسے اس کا کتنا بڑا گناہ ہوتا ہے تو چالیس تک کھڑے رہنا اس کے آگے سے گزرنے سے زیادہ بہتر سمجھنا یعنی ایک انسان معمولی سی جلد بازی کے نتیجہ میں بعض اوقات اپنا بہت بڑا نقصان کر لیتا ہے حالانکہ اگر وہ تھوڑا سا صبر کر لیتا تو وہ اس بڑے گناہ سے بچے بہاتا۔ایک اور حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزرنے لگے تو نمازی کو چاہیے کہ وہ اُسے رو کے اور اگر وہ نہ رکے تو اُسے دھکا دے کر پیچھے ہٹا دے کیونکہ وہ شیطان ہے یعنی جلد بازی اور نماز کے عدم احترام کی وجہ سے وہ شیطنت کا مرتکب ہو رہا ہے دبخاری ومسلم ) باقی کسی کے گزرنے سے نماز پڑھنے والے کی نماز پر کچھ اثر نہیں پڑتا اس کی نمازہ صحیح ہے۔صرف گزرنے والا ہی گہنگار ہوتا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزرنا چاہے تو