فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 98
۹۸ کتنی دور سے گزر ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایک صف کا فاصلہ چھوڑ کر آگے سے انسان گزر سکتا ہے۔یوں سمجھئے کہ سجدہ میں پیشانی کے رکھنے کی جگہ سے ایک دوفٹ ادہر سے گزرہ نا جائزہ ہو گا۔در اصل ممانعت اس بات کی ہے کہ انسان نمازی اور اس کی سجدہ گاہ کے درمیان میں سے گزرے حسب ضرورت سجدہ گاہ سے باہر کی طرف سے گزرنا منع نہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص نیزہ یا کسی اور چیز سے اپنی صف کا تعین کرے یعنی سترہ رکھ لے تو اس در سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- اذا صلی احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئًا فان لم يجد فلينصب عصا فان لم يكن معه عصا فليخط حطا ولا يضره ماربين يديه۔(مسند احمد) یعنی اگر کوئی کھلی جگہ نماز پڑھنے لگے تو اُسے چاہیے کہ نماز شروث کرنے سے پہلے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے جو سترہ اور روک کا کام دے۔اگر اس کے پاس اور کوئی چیز نہ ہو تو اپنی چھڑی ہی کھڑی کر دے اگر چھڑی بھی نہ ہو تو خط کھینچ دے جیئے معنے یہ ہوں گے کہ اس نشان کے اندر سے گزرنا منع ہے۔البتہ اس کے باہر سے انسان گزر سکتا ہے اور اس سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔چونکہ آجکل مساجد میں صفیں بچھی ہوتی ہیں یا صفوں کے نشان بنے ہوئے ہوتے ہیں اسلئے اب مساجد میں اپنے طور پر شترہ کے لئے مذکورہ بالا قسم کے نشان قائم کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔غرض مختلف احادیث کی بناء پر علماء نے وضاحت کی ہے کہ نماندی سے قریبا تین ہاتھ کی دوری سے انسان گزر سکتا ہے۔اس گنجائش کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ حدیث میں نمازی کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ آگے سے گزرنے والے کو ہاتھ سے رو کے اور یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ وہ نمازی کے اتنے قریب سے گزار رہا ہو کہ نمازی کا ہا تھ اس تک پہنچ سکتا ہو۔یہ حکم تو بالکل نہیں کہ نماز پڑھنے والا آگے بڑھ کر اور تو کر اور کچھ قدم چل کر گزرنے والے کو جارو گئے۔پس روکنے یا گزرنے والے کے گنہگار ہونے کا سوال تھی پیدا ہوتا ہے جبکہ نمازی کے قریب سے اُسی صف پر سے گزرے جس میں نمازی نماز پڑھ رہا ہے۔سامنے کی دوسری صف پر حسب ضرورت گزرنا منع نہیں۔سوال : نماز کی حالت میں اگر کتا سامنے سے گزر جائے تو کیا جو حصہ ادا کیا جارہا ہے وہ دوبارہ پڑھتا ہوگا ؟ میں اگر دنيل الأوطار )