فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 434

فضائل القرآن — Page 57

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ قرآن کریم کی افضلیت کی ایک اور شہادت 57 مگر ان پیشگوئیوں کے علاوہ قرآن کریم اپنی افضلیت کے لئے ایک چوتھی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ے اس کتاب کے معارف اور حقائق صرف انہی لوگوں پر کھل سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کی طرف سے پاک کئے گئے ہوں۔دیکھو قرآن اسی زبان میں آیا جسے لوگ جانتے تھے۔اس کے الفاظ وہی تھے جو لوگ استعمال کرتے تھے۔اور عربی جاننے والے لوگ دنیا میں موجود ہیں مگر ان پر قرآن کے معارف نہیں گھلتے۔معارف انہی پر کھلتے ہیں جو اس کے خدا کا کلام ہونے پر ایمان لاتے اور اپنے اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے ہیں۔کیا کوئی انسان اپنی تصنیف کردہ کتاب کے متعلق یہ شرط عائد کر سکتا ہے کہ میں نے جو کتاب تصنیف کی ہے اس کے مطالب وہی سمجھے گا جو خدا تعالیٰ کا مقرب ہوگا۔کوئی انسان اپنی تصنیف کے متعلق اس قسم کی شرط نہیں پیش کر سکتا۔پس جو کتاب معروف زبان میں ہومگر اس کے مطالب کا انکشاف دماغی قابلیتوں اور علوم ظاہری کی بجائے تعلق باللہ کے ساتھ وابستہ ہو، اس کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ورنہ اس کے علوم کا ظہور خالی علم وفکر پر کیوں نہ ہوتا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ جس قدر الہامی کتب پائی جاتی ہیں ان کے مطالب ان زبانوں کے جاننے والوں پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے متعلق یہ شرط ہے کہ خواہ ظاہری طور پر کوئی بڑا عالم نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق رکھتا ہو تو اس پر اس کے معارف کھل جائیں گے۔چنانچہ جہاں تو رات، انجیل، وید اور ژنداونتا کے علوم ظاہری عالموں کے ہاتھوں میں ہیں وہاں قرآن کریم کے علوم صرف روحانی علماء اور اولیاء کے ہاتھ سے ہی کھلتے چلے آئے ہیں۔جیسے سید عبد القادر صاحب جیلانی ، حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ، مولانا روم ، امام غزائی، سید احمد صاحب سرہندی ، شہاب الدین صاحب سہروردی، شاہ ولی اللہ صاحب یہی لوگ قرآن کریم کے علوم کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کے قابل ہوئے ہیں۔بے شک ظاہری علوم رکھنے والے بعض علماء نے بھی قرآن کریم کی تفسیریں لکھی ہیں لیکن انہوں نے بڑی بڑی ٹھوکریں بھی کھائی ہیں جو لوگوں کے لئے گمراہی کا موجب ہوئی ہیں لیکن صوفیاء جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے تھے