فضائل القرآن — Page 58
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ انہوں نے ان کا بڑی عمدگی سے رڈ کیا ہے۔روحانی علماء کے ذریعہ قرآن کریم کے مشکل مقامات کا حل مثلاً قرآن کریم میں حضرت یونس کے متعلق آتا ہے۔وَذَالنُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ یعنی یونس کو بھی یاد کرو جب وہ غضب کی حالت میں چلا گیا اور اسے یہ یقین تھا کہ ہم اسے تنگی میں نہیں ڈالیں گے۔اس آیت میں لَن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ کے جو الفاظ آتے ہیں ان کے متعلق بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یونس نے یہ خیال کیا کہ خدا اسے گرفتار نہیں کر سکتا۔مگر حضرت محی الدین ابن عربی اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ لَن نُّقْدِرَ عَلَيْهِ کے معنی ہیں لَن نَّضِيقَ عَلَيْهِ لے یعنی حضرت یونس علیہ السلام کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں تنگی میں نہیں ڈالے گا۔بلکہ ہر مشکل اور مصیبت میں ان کا ساتھ دیگا۔58 غرض عصمت انبیاء کے متعلق ظاہری علماء نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔لیکن صوفیاء اس سے محفوظ رہے ہیں بلکہ انہوں نے عصمت انبیاء ثابت کرنے کے لئے بڑی لطیف بخشیں کی ہیں۔پیدائش عالم کے متعلق ابن عربی کا ایک کشف اسی طرح دنیا کی پیدائش کے متعلق حضرت محی الدین صاحب ابن عربی لکھتے ہیں کہ مجھے کشفی طور پر معلوم ہوا کہ دنیا کئی لاکھ سال میں مکمل ہوئی ہے اور مکمل ہونے کے سترہ ہزار سال کے بعد انسان کی پیدائش ہوئی ہے۔آج لوگ کہتے ہیں کہ علم جیالوجی سے یہ امر ثابت ہوا ہے حالانکہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی نے پہلے سے یہ بات اپنی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔وہ اپنی کتاب فتوحات مکیہ جلد اول کے ساتویں باب میں انسان کے متعلق لکھتے ہیں کہ هُوَ آخِرُ جِنْسِ مَوْجُودٍ مِنَ الْعَالَمِ الْكَبِيرِ وَاخِرُ صِنْفٍ مِنَ الْمُوَلّدَاتِ ۲۲ یعنی انسان عالم کبیر کی آخری جنس اور مولدات ثلثہ (جمادات، نباتات اور حیوانات ) میں سے آخری قسم ہے۔اور مولدات ثلثہ کی پیدائش کا زمانہ وہ اکہتر ہزار سال بتاتے ہیں۔اسی طرح بعض صوفیاء نے قرآن کریم سے استدلال کر کے لکھا کہ زمین گول ہے۔چنانچہ