فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 434

فضائل القرآن — Page 355

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 355 جائے کھاتے پیتے رہو مگر پنجاب میں بہت سے زمیندار رمضان کی راتوں میں سفید اور سیاہ دھاگا اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور چونکہ دھاگا اچھی روشنی میں نظر آتا ہے اس لئے وہ دن چڑھے تک خوب کھاتے پیتے رہتے ہیں۔اب یہ اسی استعارہ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور چونکہ بعض لوگوں کی نگاہ نسبتا کمزور ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے وہ دن چڑھنے کے بعد بھی اس آیت کی رُو سے کھانے پینے کا جواز ثابت کر لیں کیونکہ انہیں سورج کی روشنی میں ہی اس فرق کا پتہ لگ سکتا ہے۔ہمارے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب جب اپنے طالب علمی کے زمانہ میں لاہور پڑھتے تھے تو ایک احمدی دوست کے گھر پر رہتے تھے۔رمضان کے دن تھے۔ایک رات انہوں نے یہ خیال کر کے کہ یہ بچہ ہے اُسے کیا جگانا ہے روزے کے لئے نہ جگایا مگر میر صاحب کو جیسا کہ بچوں کا عام طریق ہے روزے رکھنے کا بڑا شوق تھا۔اُن کی آنکھ ایسے وقت میں کھلی جب کہ سحری کا وقت گذر چکا تھا اور روشنی پھیل گئی تھی۔ادھر گھر کے مالک کو خیال آیا کہ ان کا دل میلا ہوگا انہیں روٹی کھلا دینی چاہئے۔چنانچہ میر صاحب دروازہ کھولنے لگے تو وہ کہنے لگا ہیں! ہیں ! کھولنا نہیں روشنی آئے گی میں اندر سے کھانا پکڑا دیتا ہوں۔انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی استعارات پائے جاتے ہیں غرض بعض لوگ استعارہ کے اس طرز پر معنی کرتے ہیں کہ اس کو حقیقت بنا لیتے ہیں اور پھر اس کا کچھ کا کچھ مفہوم ہو جاتا ہے اور الہامی کتابوں میں تو بالخصوص بہت مشکل پیش آتی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس کی کسی آیت کے دوسرے معنی ہم نہیں کرنے دیں گے۔اسی طرح نبیوں کی پیشگوئیوں میں استعارات پائے جاتے ہیں بلکہ ہر انسان روزانہ استعارے استعمال کرتا ہے مگر نبیوں کے کلام میں جب کوئی استعارہ آجائے گا تو لوگ کہیں گے کہ ہم اس کے کوئی اور معنی نہیں کرنے دیں گے ورنہ یہ ثابت ہوگا کہ نَعُوذُ بِاللهِ نبی بھی جھوٹ بولتے ہیں بلکہ خدا اور اُس کے انبیاء کا کلام تو الگ رہا لوگ بزرگوں کے کلام میں بھی انتہا درجہ کی سختی سے کام لیتے ہیں اور اُن کے استعارات کو سمجھنے کی بجائے حقیقت قرار دیتے ہیں۔