فضائل القرآن — Page 356
فصائل القرآن نمبر۔۔۔ایک لطیفہ 356 ہمارے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سلک مروارید نام سے ایک ناول لکھا ہے جس میں قصہ کے طور پر ایک عورت کا ذکر کیا ہے جو بڑی بڑی بخشیں کرتی اور مولویوں کا ناطقہ بند کر دیتی تھی۔ہماری کا ٹھگڑھ کی جماعت کے ایک دوست تھے انہوں نے یہ کتاب پڑھی تو ایک دفعہ جب کہ جلسہ سالانہ کے ایام تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا زمانہ تھا، دوستوں نے اُن سے پوچھا کہ کیوں بھئی ! جلسہ پر چلو گے؟ انہوں نے کہا اب کے تو کہیں اور جانے کا ارادہ ہے۔انہوں نے پوچھا کہاں جاؤ گے ؟ تو پہلے تو انہوں نے نہ بتایا مگر آخر اصرار پر کہا کہ اس دفعہ میرا ارادہ سہارنپور جانے کا ہے کیونکہ وہاں ایک بڑی بزرگ اور عاملہ عورت رہتی ہیں جن کا ذکر مسلک مروارید میں ہے اُن کی زیارت کا شوق ہے۔(شیخ یعقوب علی صاحب نے ناول میں لکھا تھا کہ وہ سہارنپور کی ہیں) انہوں نے کہا۔نیک بخت! وہ تو شیخ صاحب نے ایک ناول لکھا ہے جس میں فرضی طور پر سہارنپور کی ایک عورت کا ذکر کیا ہے یہ تو نہیں کہ سہارنپور میں واقعہ میں کوئی ایسی عورت رہتی ہے۔وہ کہنے لگا۔اچھا! تم شیخ یعقوب علی صاحب کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں جھوٹا سمجھتے ہو۔وہ کہنے لگے کہ اس میں جھوٹا سمجھنے کی کیا بات ہے وہ تو ایک قصہ ہے اور قصوں میں بات اسی طرح بیان کی جاتی ہے۔وہ دوست کہتے ہیں کہ پہلے تو اُسے ہماری بات پر یقین نہ آیا مگر جب ہم نے بار بار سے یقین دلایا تو کہنے لگا اچھا! یہ بات ہے؟ مجھے قادیان پہنچنے دو۔میں جاتے ہی حضرت صاحب سے کہوں گا کہ ایسے جھوٹے شخص کو ایک منٹ کے لئے بھی جماعت میں نہ رہنے دیں فوراً خارج کر دیں۔میں تو پیسے جمع کر کر کے تھک گیا اور میرا پختہ ارادہ تھا کہ سہارنپور جاؤں گا مگر اب معلوم ہوا کہ یہ سب جھوٹ تھا۔اب اس بیچارے کے لئے یہی سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ایسی عورت کوئی نہیں یہ ایک فرضی قصہ ہے جو اس لئے بنایا گیا ہے کہ تا وہ لوگ جو قصے پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں وہ اس رنگ میں احمدیت کے مسائل سے واقف ہو جائیں۔