فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 434

فضائل القرآن — Page 354

فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 354 دھونا چھوڑو اور جعفر کے گھر چل کر روؤ۔چنانچہ سب عورتیں حضرت جعفر کے گھر میں اکٹھی ہوگئیں اور سب نے ایک گہرام مچا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ آواز سنی تو فرمایا کیا ہوا ؟ انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اور آپ نے جو فرمایا تھا کہ جعفر" پر کوئی رونے والا نہیں اس لئے ہم نے اپنی عورتیں حضرت جعفر کے گھر بھیج دی ہیں اور وہ رورہی ہیں۔آپ نے فرمایا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔جاؤ انہیں منع کرو۔چنانچہ ایک شخص گیا اور اُس نے انہیں منع کیا۔وہ کہنے لگیں تم ہمیں کون روکنے والے ہو؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آج افسوس کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جعفر کو رونے والا کوئی نہیں اور تو ہمیں منع کرتا ہے۔وہ یہ جواب سن کر پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کیونکہ بعض لوگوں کو دوسروں کی ذرا ذراسی بات پہنچانے کا شوق ہوتا ہے اور عرض کیا وہ مانتی نہیں۔آپ نے فرمایا اُن کے سروں پر مٹی ڈالو۔مطلب یہ تھا کہ چھوڑو اور انہیں کچھ نہ کہو۔خود ہی رو دھو کر خاموش ہو جائیں گی مگر اُس کو خدا دے اُس نے اپنی چادر میں مٹی بھر لی اور اُن عورتوں کے سروں پر ڈالنی شروع کر دی۔انہوں نے کہا پاگل کیا کرتا ہے؟ وہ کہنے لگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مٹی ڈالو۔اس لئے میں تو ضرور ڈالوں گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اُسے ڈانٹا اور فرمایا تو بات کو تو سمجھا ہی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا تو یہ تھا کہ اُن کا ذکر چھوڑو اور جانے دو۔سعوہ خود ہی خاموش ہو جائیں گی۔یہ مطلب تو نہیں تھا کہ تم مٹی ڈالنا شروع کر دو۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک استعارہ کلام تھا مگر وہ واقعہ میں مٹی ڈالنے لگ گیا۔تو بعض دفعہ لوگ استعارہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بعض دفعہ لفظی معنے ایسے لے لیتے ہیں جو حقیقت کے خلاف ہوتے ہیں اور اس طرح بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔خیط ابیض اور خیط اسود کا غلط مفہوم میں نے یہ عرب کی مثال آپ لوگوں کے سامنے پیش کی ہے۔اب میں پنجاب کی ایک مثال دے دیتا ہوں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ سحری کا وقت اُس وقت تک ہے جب تک سفید دھاگا سیاہ دھا گا سے الگ نظر نہیں آتا۔یہ ایک استعارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک پو پھٹ نہ