فضائل القرآن — Page 278
فصائل القرآن نمبر ۵ 278 کیوں نہیں گیا۔میں نے اُن صاحب سے پوچھا آج کل کتنے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا بہت کم۔میں نے کہا ایسے ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور وہ سمجھتے بھی ہیں کہ ایمان لائے مگر حقیقت میں ایمان نہیں لائے ہوتے۔ان کے لئے کیا ہوگا۔قرآن کریم سچا ہو ہی نہیں سکتا جب تک ایسے لوگوں کا علاج نہ کرے۔پس اگر ایسے لوگ ہو سکتے ہیں اور ہیں تو اُن کو راہِ راست دکھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور بھی آنا چاہئے۔قرآن کریم کی پہلی اصولی اصلاح ہستی باری تعالیٰ کے متعلق اب میں مثال کے طور پر بعض اُن باتوں کو لیتا ہوں جو اصولی ہیں اور بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے کس طرح دوسرے مذاہب یا فلسفیوں کے خیالات کی غلطیاں نکالیں اور اُن کی اصلاح کی ہے۔پہلی بات جو مذہب کا سوال سامنے آتے ہی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آیا اس دنیا کا کوئی خدا ہے یا یہ دنیا آپ ہی آپ ہے اور اس کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں۔اس بات کو قرآن کریم نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں اور ان کے منبع علم کی بھی تشریح کی ہے مگر میں ان مثالوں کے متعلق صرف ایک ایک دلیل دونگا۔تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا ثَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنا إِلَّا الشَّهْرُ ، وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ " یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت مر رہے ہیں اور پیدا ہورہے ہیں ورنہ کوئی ایسی ہستی نہیں جو یہ کام کر رہی ہے۔جو لوگ دہر یہ ہوتے ہیں اُن میں سے کئی ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے رد میں دلیلیں دینے لگ جاتے ہیں لیکن جو بڑے بڑے اور ہوشیار د ہر یہ ہوتے ہیں جیسے ہکسلے وغیرہ وہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی دلیل خدا کے ہونے کی نہیں ملتی۔چنانچہ ہکسلے سے پوچھا گیا کہ تیرا مذ ہب کیا ہے؟ تو اُس نے کہا یہ کہ میں نہیں جانتا۔غرض ان کی بنیاد نفی پر ہے اور خدا تعالیٰ نے آج سے تیرہ سو سال قبل یہ بات بتادی ہے کہ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ خدا کے منکر صرف یہی