فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 434

فضائل القرآن — Page 277

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 277 نے ساری دنیا کو یہ چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ مذہب پر کوئی اعتراض کریں۔میں اُن کے تمام اعتراضات کا قرآن کریم سے ہی جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔وہ کتاب کی شکل میں اپنے اعتراضات شائع کر دیں۔پھر میرا فرض ہوگا کہ اُن کا جواب میں قرآن سے ہی دوں اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو بے شک لوگ مجھے کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا یہ دعویٰ باطل ہے کہ قرآن نے ہر ایک اعتراض کا جواب دے دیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی اس آزمائش کے لئے تیار ہو تو خدا تعالیٰ مجھے کامیاب کرے گا۔خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ سورہ فاتحہ جو قرآن کی جڑ ہے مجھے سکھائی ہے۔اس وجہ سے مجھے یقین ہے کہ جب قرآن کریم نازل کرنے والے خدا کے فرشتوں نے مجھے سورۃ فاتحہ سکھائی اور اس کے معارف بتائے اور فرشتہ نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں تجھے وہ باتیں سکھاتا ہوں جو کسی کو معلوم نہیں تو کسی مخالف کا کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا جس کا میں قرآن کریم سے ہی جواب نہ دے سکوں۔اس لئے میں سب مخالفین اسلام کو پھر پھینچ دیتا ہوں کہ وہ کوئی مخالفانہ بات پیش کریں۔اصولی طور پر اس کا رڈ میں قرآن کریم سے ہی دکھا دوں گا۔میرے پاس پچھلے دنوں ایک صاحب آئے اور آکر کہنے لگے۔میں کچھ مذہبی باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا بڑی خوشی سے پوچھئے۔کہنے لگے مرزا صاحب کے دعوی کے متعلق پوچھتا ہوں کہ کیا قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے۔میں نے کہا ہاں کرتا ہے۔کہنے لگے کوئی آیت بتائیے۔میں نے کہا کوئی آیت کیا سارا قرآن ہی تصدیق کرتا ہے۔کہنے لگے یہ کس طرح؟ میں نے کہا۔مجھے تو یہی نظر آتا ہے۔آپ کوئی آیت پڑھیں میں اُس سے ثابت کر دوں گا اور خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت اُسی سے سمجھا دوں گا۔میں نے کہا قُلْ هُوَ الله احد ہی پڑھ دیجیئے۔یہ گن کر وہ کچھ گھبرا اسے گئے کہ اس سے شائد اپنا دعویٰ ثابت کریں اس لئے اُس سے چھوڑ کر انہوں نے یہ آیت پڑھی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ اُمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ سے میں نے کہا ایمان لانے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر وہ جھوٹ کہتے ہیں اور ایک وہ جو واقعہ میں ایمان لاتے ہیں۔اب ایسے لوگ جو سمجھتے تو ہیں کہ ایمان لائے مگر در حقیقت ایمان نہیں لائے جب مرکز خدا تعالیٰ کے سامنے جائیں گے تو خدا تعالیٰ اُن سے پوچھے گا کہ تم نے تو ایمان کا دعویٰ کیا تھا مگر حقیقت میں تم ایمان نہیں لائے تھے۔وہ کہیں گے پھر ہمیں کسی رسول کے ذریعے بتایا