فضائل القرآن — Page 279
فصائل القرآن نمبر ۵ 279 بات کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ خدا نہیں ہے۔اس کے لئے کوئی مثبت دلیل اُن کے پاس نہیں ہوتی۔صرف وہم اور گمان ہوتا ہے کہ خدا نہیں ہے اور نفی پر قطعیت کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔یہ تو دہریت کا ذکر ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ دہریت کو قرآن نے کس طرح رڈ کیا ہے مگر صرف ایک دلیل دونگا اور وہ یہ ہے کہ سورۃ جانیہ کے رکوع ۴ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلِلهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ هے کہ اس دنیا میں ایک ایسا بادشاہ نظر آرہا ہے جو آسمان اور زمین دونوں پر قابض ہے اور جس کی طاقتوں کا مظاہرہ ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔اس جگہ آسمان سے شرعی نظام اور زمین سے طبعی نظام مراد ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی یعنی شرعی اور زمینی یعنی طبیعی نظاموں میں ایک زبر دست اتحاد پایا جاتا ہے۔جسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ اتفاق سے اور آپ ہی آپ ہے اگر طبعی نظام آپ ہی آپ ہے تو نبیوں کے کلام سے اُس کا تطابق کیوں ہوتا ؟ ان دونوں میں تو ایسا اتحاد ہے کہ اسے دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ اس دنیا کو چلانے والا کوئی نہیں۔یہ مشاہدہ اور نظام عالم کی دلیلیں میرے لیکچر د ہستی باری تعالیٰ میں تفصیل سے بیان ہو چکی ہیں۔یعنی خدا کے کلام او طبیعی نظام کا آپس میں اتحاد جسے دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی آپ ہے تو نبیوں کے کلام سے اس کا تطابق کیوں ہوتا ہے؟ پس شرعی اور طبعی نظام کا ایک دوسرے کی تائید کرنا بلکہ طبعی نظام کا شرعی نظام کے تابع چلنا بتاتا ہے کہ اس دنیا کا چلانے والا کوئی ضرور موجود ہے۔یہ دلیل مجموعہ ہے دلیل مشاہدہ اور دلیل نظام کا اور میرے نزدیک سب دلیلوں سے زیادہ مضبوط ہے۔دلیل نظام یہ بتاتی ہے کہ سب دنیا ایک نظام کے نیچے ہے اور دلیل مشاہدہ یہ بتاتی ہے کہ شریعت اپنے ساتھ ثبوت رکھتی ہے اور ان دونوں دلیلوں کا مجموعہ یہ بتاتا ہے کہ دونوں نظام ایک دوسرے سے متحد ہیں اور یہ اتحاد سب سے بڑا ثبوت ہے ہستی باری تعالیٰ کا اس کے متعلق میں ایک مثال قرآن کریم سے ہی پیش کرتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ آسمان کا نظام کس طرح زمینی نظام سے متفق ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو سال ہوئے دعوی کیا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں۔آپ نے دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور آپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خدا