فضائل القرآن — Page 253
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 253 آرام نہیں پاسکتا تو ہم نے تجھے فوراً آواز دی کہ آجا، میں موجود ہوں۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تجھے معلوم ہے کہ جب ہم نے ہدایت دی تو وہ تیرے نفس کے لئے ہی نہ تھی بلکہ ساری دنیا کے لئے تھی۔پس لوگ تیرے پاس آئے اور مختلف طبائع کے لوگ آئے پھر ہم نے ان کی کفالت کے لئے قرآن کے ذریعہ تجھے وہ رزق دیا جو ہر فطرت کے انسان کے لئے کافی تھا۔پس وَوَجَدَكَ عَائِلًا فأغلى 2 اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تجھے کثیر العیال پایا اور اپنے فضل سے غنی کر دیا۔فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنر ۱۸ پس اب تو بھی ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا کہ ان کی طاقتیں کچلی جائیں نہ اتنی رعایت کرنا کہ بگڑ جائیں۔اس آیت میں ضال کے مقابل پر سائیل رکھا گیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہاں بھی ضال سے مراد خدا کی محبت کے طلبگار کے ہیں۔بہر حال فرمایا کہ جب کوئی تمہارے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے آئے تو انکار نہ کرنا بلکہ وہ ہدایت جو ہم نے تجھے دی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچانا۔صال کے جو معنی میں نے اس وقت کئے ہیں اس کے خلاف کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدی۔ہم نے تجھے ضال پایا اور اس کے نتیجہ میں ہدایت دی اور دوسری طرف فرماتا ہے۔وَاللهُ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِيْنَ ۹ کر فسق کے نتیجہ میں کبھی ہدایت نہیں ملا کرتی۔پھر ضال کے معنی گمراہ کس طرح کئے جا سکتے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔وَإِذَا جَاءَهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْثى مِثْلَ مَا أُوتِ رُسُلُ الله اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارُ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيلٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ۔" جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اسے نہیں مان سکتے جب تک ہمیں ویسا ہی کلام نہ ملے جو رسولوں کو ملا۔اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔یہ گناہگار لوگ ہیں۔ان کو تو ذلت ہی ملے گی۔اس آیت میں صاف طور پر بتادیا کہ گناہ کے نتیجہ میں ذلت حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہدایت۔ذنب اور استغفار کی حقیقت پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اسلام نعوذ باللہ گناہگار تھے۔اس کے لئے ذنب اور