فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 434

فضائل القرآن — Page 252

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 252 سے بہتر نہ ہوئی مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلے سے اچھی تھی اور جب ہر اگلی گھڑی اچھی تھی تو ضلالت کہاں سے آگئی۔پھر فرماتا ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضی ۸۳ عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے ایسے انعام دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔اس کے متعلق ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ رسول کریم مسی شمالی یام کی وہ کونسی خواہش تھی جس کے پورا ہونے سے آپ خوش ہو سکتے تھے۔سورہ کہف رکوع میں آتا ہے۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ آسفا ۱۴ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے آپ کو اس لئے ہلاک کر رہا ہے کہ لوگ ہمارے کلام پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔یہ خواہش تھی رسول کریم صل نہ کی کہ آپ کی قوم خدا تعالیٰ کے کلام کو مان لے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضی تو نے دیکھا ہے کہ تیری ہر گھڑی کو ہم نے پہلی سے اچھا کھا پھر کیا تمہاری یہ بات ہم رڈ کر دیں گے کہ تیری قوم ہدایت پا جائے۔ہمیں اس خواہش کا بھی علم ہے اور اسے بھی ہم پورا کر دیں گے۔پھر فرمایا اَلَمْ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَأَوَی ۵۵ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو یتیم تھا جب پیدا ہوا۔اس یتیمی کے وقت سے خدا نے تم کو اپنی گود میں لے لیا۔گویا کوئی وقت خدا کی گود سے باہر آپ پر آیا ہی نہیں۔اوی کے معنی ہیں قرب میں جگہ دی۔فرمایا الم يَجِدُكَ يَتِمَّا فَأَوَى کیا خدا نے تم کو یتیم پا کر اپنے پاس جگہ نہیں دی۔وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَی اب اس کے معنی اگر یہ کئے جائیں کہ تجھے گمراہ پایا پھر ہدایت دی تو یہ معنی یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔پس اس کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے تجھ میں محبت کی تڑپ دیکھی اور دنیا کی ہدایت کا سامان دے دیا۔ان معنوں کی تائید ایک اور آیت سے بھی ہوتی ہے۔جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے تو انہیں گھر والوں نے کہا۔تالله اِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ ۵ یوسف کی پرانی محبت تیرے دل سے نکلتی ہی نہیں۔تو ابھی تک اسی پرانی محبت میں گرفتار ہے۔وہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کو گمراہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ یوسف علیہ السلام کی محبت میں کھویا ہوا سمجھتے تھے۔اس لئے ضلال کا لفظ انہوں نے شدت محبت کے متعلق استعمال کیا۔پس وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى کے یہ معنی ہیں کہ جب تو جوان ہوا اور تیرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خدا سے ملے بغیر میں