فضائل القرآن — Page 254
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 254 استغفار کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں لیکن عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی نہیں سمجھے۔استغفار کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ جو مشکلات کسی کے رستہ میں حائل ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے۔اسی طرح ذنب کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کے بھی۔پس غفر کے معنی ڈھانکنے اور ذنب کے معنی زوائد کے ہیں۔جب رسول کریم سالی یتیم کے متعلق استغفار کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد آپ کے رستہ کی مشکلات کا دُور ہونا ہوتا ہے اور جہاں ذنب کا لفظ آتا ہے وہاں زوائد کا دور کیا جانا مراد ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لوسورۃ نساء رکوع ۱۶ میں پہلے جنگ کا ذکر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَكُن لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا وَاسْتَغْفِرِ الله اے محمد رسول اللہ جب ہم حکومت دیں گے تو کچھ لوگ ایسے ہونگے جو دین کی باتوں میں خیانت سے کام لیں گے اور کجی کا راستہ اختیار کریں گے ان سے لڑنے کی طرف توجہ نہ کرنا بلکہ بجائے اس کے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا کہ ان کی یہ کمزوری دور ہو جائے۔(۲) سورہ مومن رکوع ۶ میں بھی پہلے انا لتَنْصُرُ رُسُلَنَا فرما کر نصرت کا ذکر ہے اور پھر واسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ میں استغفار اور نبیح کا حکم دیا ہے سورۃ محمد رکوع ۲ میں بھی پہلے ساعت کے آنے کا ذکر ہے یعنی فتح کا اور پھر وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبك " فرماتا ہے۔(۴) سورۃ نصر میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر آتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ (۵) سورۃ فتح میں بھی پہلے فتح کا ذکر ہے اور پھر غفر کا۔فرمایا انا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ ؟ ان سب حوالوں میں فتح کے ساتھ ذنب یا استغفار کا ذکر ہے یعنی یا تو فتح کے وعدہ کے بعد یا فتح کے ذکر کے بعد۔چار جگہوں میں تو فتح کے وعدہ کے ساتھ استغفار کا ذکر کیا ہے اور ایک جگہ فتح مبین کا ذکر ہے اور وہاں لِيَغْفِر کہا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تیری دعاسنی گئی اور ہم نے عام فتوحات کی بجائے تجھے فتح مبین عطا کی ہے تا کہ تیرے ذنب بخشے جائیں۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ کسی کو فتح ونصرت کا ملنا کیا گناہ ہے اور ہر جگہ فتح کے ساتھ یہ الفاظ کیوں آئے ہیں۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ استغفار اور ذنب کسی اور قسم کا ہے۔اگر گناہ مراد تھا تو چاہئے تھا کہ کسی گناہ کا ذکر کیا جا تامگر ایسا تو ایک جگہ بھی نہیں کیا گیا بلکہ بجائے اس کے یہ بتایا کہ ہم