فضائل القرآن — Page 251
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 251 کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا اور نہ حمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہم کبھی ناراض ہوئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ دو پہر اور آدھی رات اس بات کی کس طرح دلیل ہیں کہ محمد صلی نیا کی تم سے خدا کبھی ناراض نہیں ہوا اور نہ اس نے آپ کو چھوڑا۔یہ ظاہر ہے کہ یہاں ظاہری دن رات مراد نہیں بلکه مجازی دن رات مراد ہیں اور یہ محاورہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ رات اور دن سے خوشی اور رنج اور ہوش اور غفلت کا زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔رات تاریکی ، مصیبت اور جہالت کو کہتے ہیں اور دن ترقی ، روشنی اور علم کے زمانہ کو کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیری عمر کی ان گھڑیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو خوشی کی تھیں اور ان کو بھی پیش کرتے ہیں جو رنج کی تھیں اور تیرے ہوش کے زمانہ کو بھی اور بچپن کے زمانہ کو بھی جو جہالت کا زمانہ ہوتا ہے۔پھر اس زمانہ کو بھی جو نبوت سے پہلے کا تھا اور اسے بھی جب نبوت کا سورج طلوع ہو کر نصف النہار پر آ گیا۔تجھ پر وہ زمانہ بھی آیا۔جب کہ تو دایہ کی گود میں تھا۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جو شباب کی تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے۔وہ زمانہ بھی آیا جب جذبات سرد ہو جاتے ہیں۔پھر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ ہر طرف تیرے دشمن ہی دشمن تھے اور تیرے لئے دن بھی رات تھا۔پھر وہ زمانہ آیا جب ساری قوم تجھے امین اور صادق کہتی تھی۔ان سب زمانوں کو دیکھ لو۔کیا کوئی وقت بھی ایسا آیا ہے جب خدا تعالیٰ نے تیری نصرت سے ہاتھ روکا ہو اس کی ناراضگی کسی رنگ میں تجھ پر ظاہر ہوئی ہو۔بعض لوگ آرام اور عزت حاصل ہونے پر بگڑ جاتے ہیں مگر تجھے جب امن ہوا امیر بیوی ملی، تیری قوم نے تیری عزت کی اس وقت بھی تو نے اچھے کام کئے۔پھر وہ زمانہ آیا کہ خدا نے اپنا کلام تجھ پر اُتارا۔تب بھی تو فرمانبردار رہا۔گویا تیری ہر آنے والی گھڑی پہلی سے اعلیٰ اور بہتر رہی ہے اور خدا کی تائید اور اس کی پسندیدگی بڑھتی چلی گئی۔اب دیکھو رسول کریم من بیا اینم کی صداقت کی یہ کتنی بڑی دلیل ہے۔عجیب بات ہے خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اس کی ساری زندگی بچپن سے لے کر آخر تک دیکھ لو۔ایک لمحہ بھی اس کے لئے گمراہی کا نہیں آیا اور خدا تعالیٰ نے اسے نہیں چھوڑ انمگر نادان مخالف کہتے ہیں کہ آپ گمراہ تھے۔اگر یہی گمراہی ہے تو ساری ہدایت اس پر قربان کی جاسکتی ہے۔پھر فرماتا ہے۔وَلَلْآخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِنَ الْأولىی۔تیرا ہر قدم ترقی کی طرف چلتا گیا۔بچپن میں انسان بے گناہ ہوتا ہے۔اگر نعوذ باللہ رسول کریم صلی یا یہ ان بڑے ہو کر گمراہ ہو گئے تو آخرت اولی