فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 434

فضائل القرآن — Page 250

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 250 مضبوطی ہوتی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔اسی طرح صادق کی علامت یہ ہے کہ اس کی تعلیم ترقی کرتی ہے اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے۔اب یہ رسول جو دن رات ترقی کر رہا ہے۔اگر ضلالت پر ہوتا ہے تو جتنی زیادہ تعلیم بناتا اس قدر زیادہ نقص ہوتے مگر اس کے کلام کی زیادتی تو اس کی تعلیم کو کمل بنا رہی ہے۔پھر بتایا۔اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا مگر اس کا کلام تو ایسا ہے کہ وہ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ الَّا وَحَى يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ٤٩ یہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے اور اس کو یہ کلام بڑی قوتوں والے خدا نے سکھایا ہے۔ایک اور آیت بھی اس امر کو حل کرتی ہے۔سورہ بنی اسرائیل رکوع ۸ میں آتا ہے۔وان كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِى اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ ۖ وَإِذًا لا تَخَذُوكَ خَلِيلًا۔٥٠ فرمایا قریب تھا کہ لوگ تجھے عذاب میں مبتلا کر دیں۔عام طور پر لوگوں نے غلطی سے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ رسول کو پھسلا لیں مگر وہ رسول کریم سنی ہی پہ تم کو کہاں پھسلا سکتے تھے۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ قریب ہے کہ یہ لوگ تجھے سخت عذاب دیں اس کلام کی وجہ سے جو تجھ پر وحی کیا گیا ہے تاکہ تو اس سے گھبرا کر کچھ تبدیلی کرلے اور اگر ایسا ہو تو یہ ضرور تجھے دوست بنالیں لیکن ان کا خیال ایک جنون ہے وَلَوْ لَا اَنُ ثَبِّتْنَكَ لَقَدْ كِرْتَ تَرْكَنُ الَيْهِمْ شَيْئًا قليلا 1 اگر ہم نے قرآن نہ بھی نازل کیا ہوتا تو بھی تیری فطرت ایسی پاک ہے کہ یہ بات تو بڑی ہے۔تیری ان سے مشابہت پھر بھی معمولی سی ہوتی مگر اب تو تجھے وحی الہی نے ایک صحیح راستہ دکھا دیا ہے۔اب ان کی یہ خواہش کس طرح پوری ہوسکتی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ پھر وَوَجَدَكَ ضَالًا فَھدی کا کیا مطلب ہوا۔سو اس کا جواب خود اس سورۃ میں موجود ہے۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک زبردست دلیل دی گئی ہے۔فرماتا ہے وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى ۵۲ اے دنیا کے لوگو سنو! بین دو پہر کے وقت کو اور رات کو جب وہ خوب ساکن ہو جاتی ہے اور اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جاتی ہے ہم اس بات کی شہادت میں پیش کرتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )