فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 434

فضائل القرآن — Page 130

فصائل القرآن نمبر۔۔۔130 سواب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظاہر و باطنا حضرت رب العلمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے۔اور بیچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام محنت کے لئے کافی ہیں۔“ پھر بعد میں آپ نے یہ بھی تحریر فرما دیا کہ : میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل (یعنی بچے مذہب کا اپنے عقائد اور تعلیم میں کامل ہونا اور اس کی زندہ برکات اور معجزات ) ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا ۵ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے قرآن کریم کی افضلیت کے وہ دلائل جن کا براہین احمدیہ میں وعدہ کیا تھا اپنی دوسری کتابوں میں بیان فرما دیئے۔مگر ہر ایک نظر ان تک نہیں پہنچ سکتی اس لئے میں نے انہیں ایک ترتیب سے بیان کرنا ضروری سمجھا۔پچاس وجو و فضیلت لیکن جب میں اس قرضہ کی ادائیگی کا سامان کرنے کے لئے بیٹھا تو میں نے دیکھا کہ قرضہ اور بڑھ گیا ہے۔کیونکہ میں نوٹ کرنے لگا تو ۲۶ کی بجائے ۵۰ فضیلت کی وجوہات مجھے معلوم ہوئیں اور اس طرح ۲۰ کی بجائے ۲۴ میرے ذمہ نکلیں۔اس پر مجھے خیال آیا کہ جب گذشتہ سال لمبا وقت صرف کر کے بمشکل چھ وجوہات پیش کی جاسکی تھیں تو اس سال ۴۴ کس طرح بیان کی جا سکیں گی۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ بعض لوگوں کی طبیعت چونکہ وہمی ہوتی ہے اس لئے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اصولی طور پر فضیلت کے گر بیان کر کے جو قرآن کریم کی فضیلت ثابت کی گئی ہے اور تفصیل بیان نہیں کی گئی تو اس میں ضرور کوئی بات ہوگی۔اور یہ قرآن کریم کی افضلیت کو پوری طرح ثابت نہیں کر سکتے ہوں گے۔اس وجہ سے مجھے خیال آیا کہ جو تفصیل بیان نہیں ہو سکی تھی اس کو