فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 434

فضائل القرآن — Page 255

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 255 تجھے فتح و نصرت دیتے ہیں۔تو استغفار کر۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس کے معنی کچھ اور ہیں اور وہ یہ کہ فتح کے ساتھ جو لوگ سلسلہ بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں ان کی تربیت پوری طرح نہیں ہو سکتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کے زوال کا وقت اسی دن سے شروع ہو جاتا ہے جب کہ فتوحات شروع ہوتی ہیں اور لوگوں کی تربیت اچھی طرح نہیں ہو سکتی۔جب لاکھوں مسلمان ہو گئے اور وہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے تھے تو ان کی تربیت ناممکن تھی۔اس لئے فرمایا یہ بات بشریت سے بالا ہے کہ اتنے لوگوں کی پوری طرح تربیت کی جاسکے۔ان کی تربیت خدا ہی کر سکتا ہے۔اس لئے دعائیں کر کہ خدایا تو ہی ان کی نیک تربیت کا سامان پیدا فرما اور پھر خوشخبری دی کہ ہم نے تمہاری دُعائیں سن لی ہیں۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ ہم تجھ کو جو فتح عظیم دیں گے وہ ایسی صورت میں دیں گے کہ وہ فتح مبین ہوگی حق و باطل میں تمیز کر دینے والی ہوگی اور صرف جسموں پر ہی نہیں ہوگی بلکہ دلوں پر بھی ہوگی۔لوگ منافقت سے اسلام میں داخل نہیں ہونگے بلکہ دین کے شوق کی وجہ سے ہو نگے اور یہ فتح ہم نے اس لئے دی ہے کہ تربیت کا پہلو مضبوط ہو جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کر کے تربیت کے پہلو کو مضبوط کر دیا اور ایسے نائب آپ کو بخشے جو ہمیشہ کے لئے دین کے محافظ ہو گئے۔دیکھ لو ایک تو وہ وقت تھا کہ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مکہ چھوڑ کر اس لئے بھاگ گیا کہ جہاں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہو وہاں میں نہیں رہ سکتا مگر پھر وہ وقت آیا کہ وہ مسلمان ہوا اور ایسا مخلص مسلمان ہوا کہ ایک جنگ میں دشمن چن چن کر صحابیوں کو مار رہے تھے۔عکرمہ نے کہا یہ بات مجھ سے دیکھی نہیں جاتی کوئی ہے جو دشمن کے مقابلہ کے لئے میرے ساتھ چلے۔اس طرح کچھ آدمی ساتھ لئے اور جرنیل سے اجازت لے کر دشمن پر جس کی تعداد ساٹھ ہزار تھی حملہ کر دیا اور عین قلب پر حملہ کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کو شکست ہوگئی اور وہ بھاگ گئے۔اس وقت عکرمہ کو دیکھا گیا تو وہ دم توڑ رہے تھے۔ان کی پیاس محسوس کر کے جب پانی لایا گیا تو انہوں نے کہا۔پہلے میرے ساتھی کو پانی پلاؤ۔اس ساتھی نے دوسرے کی طرف اشارہ کر دیا اور دوسرے نے تیسرے کی طرف وہ سات نوجوان تھے جو زخموں کی وجہ سے دم توڑ رہے تھے مگر کسی نے پانی کو مونبہ بھی نہ لگایا اور ہر ایک نے یہی کہا کہ پہلے فلاں کو پلاؤ مجھے بعد میں پلا دینا۔جب سب نے انکار کر دیا تو وہ پھر عکرمہ