فضائل القرآن — Page 235
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 235 اشارے ضرور پائے جاتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطِيْنُ ٣ شیطان اس کلام کو لیکر نہیں اترے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَّجِيْمٍ " یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر شیطان اُترتا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار جمع ہو کر رسول کریم سی ای ایم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے پاس ادنی درجہ کے لوگ آتے ہیں اور بڑے لوگ آپ کی باتیں نہیں سنتے۔اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آکر بیٹھا کریں۔اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اس پر رسول کریم صلی یا یہ تم کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے۔( مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام نولڈ کے ہے۔وہ لکھتا ہے۔معلوم ہوتا ہے۔یہ روایت بنانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے۔غرض رسول کریم ملایا اسلام کو نعوذ باللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے اور سورۃ نجم پڑھنی شروع کی۔اس وقت شیطان نے اَفَرَ يُتُمُ اللتَ وَالْعُزَّى وَمَنْوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرى ٢٥ کے بعد یہ کلمات آپ کی زبان پر جاری کر دیئے کہ وَتِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُر تنجی کیا تم نے لات اور عربی اور منات کی حقیقت نہیں دیکھی۔یہ بہت خوبصورت دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی بڑی امید ہے۔چونکہ سورہ نجم کے آخر میں سجدہ آتا ہے۔رسول کریم صلی ا یہی تم نے سجدہ کیا تو سب کفار نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کر دیا کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ نے دین میں نرمی کر دی ہے اور مجنوں کو مان لیا ہے۔اس روایت کو اتنے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے کہ ابن حجر جیسے آدمی کہتے ہیں کہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔گوتاریخی طور پر یہ روایت بالکل غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ حض جھوٹ ہے مگر اس وقت میں کسی تاویل میں نہیں پڑتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن اس کے متعلق کیا کہتا ہے اور کیا واقعہ میں رسول کریم سالی پیام سے ایسا ہوا ؟ اس موقع پر میں ایک مسلمان بزرگ کا قول بھی بیان کرتا ہوں جو مجھے بے انتہا پسند ہے میں تو