فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 434

فضائل القرآن — Page 234

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 234 جب وہ مطلب ہی بیان نہیں کر سکتا تو وہ رسول کریم ستی یا ہم کو مضامین کس طرح سمجھاتا ہے کہ وہ عربی میں اس کو بیان کر دیتے ہیں۔یہ جواب ہے آدھے حصے کا۔دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اس کے قول کو نقل کیا جاتا مگر یہ کس طرح ہو سکتا تھا۔وہ تو عبرانی میں کہتا تھا اور اس کی بات اگر دہرائی جاتی تو عبرانی میں ہوتی مر قر آن تو عبرانی یا یونانی میں نہیں جس میں تو رات یا نجی لکھی ہوئی ہیں بلکہ عربی میں ہے۔پس جب نہ وہ شخص اپنا مطلب عربی میں ادا کر سکتا ہے نہ قرآن کسی دوسری زبان کی نقل ہے تو اس کی طرف یہ کتاب کس طرح منسوب کی جاسکتی ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقت تک تو رات اور انجیل کا کوئی ترجمہ عربی زبان میں نہیں ہوا تھا۔چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کو عبرانی اس لئے پڑھوائی گئی کہ وہ تورات و انجیل پڑھ سکیں۔دوسرا ثبوت اس کا یہ ہے کہ مفسرین دنیا بھر کے علوم کا ذکر تفسیروں میں کرتے ہیں مگر جب بائیبل کا حوالہ دیتے ہیں تو بالعموم غلط دیتے ہیں۔جس کی وجہ یہی تھی کہ عربی میں بائیبل نہ تھی۔وہ سن سنا کر لکھتے اس لئے غلط ہوتا۔تیسرا ثبوت یہ ہے کہ بخاری میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھا ہے کہ كَانَ يَكْتُبُ الكتب بِالْعِبرائی کے وہ عبرانی میں تو رات لکھا کرتے تھے۔گویا اس وقت توریت اور انجیل عربی میں نہ تھی۔پس یقینا وہ غلام عبرانی یا یونانی میں انجیل پڑھتا تھا اور عربی میں اس کا مفہوم بیان نہ کرسکتا تھا۔اس طرح اس اعتراض کو رڈ کر دیا گیا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ جبیر نے کہا تھا کہ بَلْ هُوَ يُعَلِّمُنِی۔جبیر آخر کار مسلمان ہو گیا تھا۔عبد اللہ بن ابی سرح نے مرتد ہونے پر اس کا راز کفار کو بتا دیا تھا اور وہ اسے سخت تکالیف دیتے تھے۔آخر فتح مکہ پر آنحضرت سلایا کہ تم نے روپیہ دے کر اسے آزاد کروا دیا۔اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے کہا۔میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتے تھے۔آٹھواں اعتراض آٹھواں اعتراض یہ تھا کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اسے کلام حاصل ہوتا ہے اور گو کفار کا کوئی قول اس اعتراض کے متعلق نقل نہیں کیا گیا مگر اس اعتراض کے