فضائل القرآن — Page 236
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 236 جب بھی یہ قول پڑھتا ہوں ان کے لئے دُعا کرتا ہوں۔یہ بزرگ قاضی عیاض ہیں۔وہ فرماتے ہیں شیطان نے رسول کریم سی ان پر تو کوئی تصرف نہیں کیا البتہ بعض محدثین کے قلم سے شیطان نے یہ روایت لکھوا دی ہے۔گویا اگر شیطان کا تسلط کسی پر کرانا ہی ہے تو کیوں نہ محدثین پر کرایا جائے۔رسول کریم صلی یہ تم کو درمیان میں کیوں لایا جائے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ رسول کریم مانا ہی ہم نے سورۃ نجم پڑھتے ہوئے یہ آیتیں بھی پڑھ دیں۔اس پر جبریل نازل ہوا اور اس نے کہا آپ نے یہ کیا کیا۔میں تو یہ آیتیں نہیں لایا تھا یہ تو شیطان نے جاری کی ہیں۔یہ معلوم کر کے رسول کریم سیا سی و یتیم کو سخت فکر ہوا۔خدا تعالیٰ نے اس فکر کو یہ کہہ کر دور کر دیا کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَثَى أَلْقَى الشَّيْطنُ فِي أُمْنِيَّتِهِ ، فَيَنْسَحُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطن ثُمَّ يُحْكِّمُ اللهُ ايَتِهِ وَاللهُ عَلِيْمٌ حَکیم۔فرمایا تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو۔پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹادیتا ہے اور جو اس کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے۔کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل کی تو رسول کریم می نام کی تسلی ہو گئی۔تسلی کس طرح ہوئی اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہوگئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارا گبر، اپن دور ہو جائے یا یہ کہ دوسری عورتیں بھی تمہاری طرح گہری ہو جائیں۔اس نے کہا مجھ پر تو دوسری عورتوں نے جس قدر ہنسی کرنی تھی کرلی ہے۔اب باقی عورتیں بھی گہری ہو جائیں تا کہ میں بھی ان پر ہنسوں۔اس روایت کو درست قرار دینے والوں کے نزدیک رسول کریم سان اینم کی کس طرح تسلی ہوئی۔اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہہ دیا کہ تم پر ہی شیطان کا قبضہ نہیں ہوا سب نبیوں پر ہوتا چلا آیا ہے۔یہ سن کر رسول کریم صلی ال ایام کا فکر دور ہو گیا۔کتنی نا معقول بات ہے۔ان لوگوں نے کبھی اتنا بھی نہ سوچا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان کا ہر نبی اور رسول پر قبضہ پالینا بڑی حکمت کی بات ہے اور پھر علیم کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔