فضائل القرآن — Page 70
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 70 شرک باطل ہو جاتا تھا۔غرض وَمَا الرحمن کے یہ معنی نہیں کہ عرب کے لوگ رحمن کا لفظ نہیں جانتے تھے بلکہ یہ ہیں کہ وہ اس اصطلاح کے قائل نہ تھے جو قرآن نے پیش کی۔بہر حال قرآن کریم کی فصاحت اس کے حسن کا ایک روشن ثبوت ہے۔اور پھر قرآن کریم کی یہ فصاحت ایسی بڑھی ہوئی ہے کہ آج تک علم ادب پر اس کا اثر ہے اور زبان عربی کی ترقی کو اس نے ایک خاص لائن پر چلا دیا ہے۔حتی کہ عرب مسیحی مصنف بھی قرآن کی تعریف کرتے تھے اور ان کے مدارس میں قرآن کریم سے ٹکڑے بطور ادب کے رکھے جاتے تھے۔ایک جاہل ملک میں ایک کتاب کا لوگوں کو والہ و شید ا بنادینا اور انہیں جاہل سے عالم کر دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔قرآن کی اعلیٰ درجہ کی ترتیب قرآن کریم کی دوسری ظاہری خوبی اس کی اعلیٰ درجہ کی ترتیب ہے۔ترتیب کا اعلیٰ ہونا بذات خود روحانیت سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ مجرد ترتیب انسانی کلام میں بھی پائی جاتی ہے۔لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ترتیب ایک ظاہری خوبی ہے جو کسی کلام کو خو بصورت بنادیتی ہے۔اور اس خوبی کے لحاظ سے بھی قرآن کریم تمام دوسری کتب سے افضل ہے۔بظاہر وہ ایک بے ترتیب کلام نظر آتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب موجود ہے بلکہ جہاں سب سے بڑھ کر بے ترتیبی نظر آتی ہے وہاں سب سے زیادہ ترتیب ہوتی ہے۔اور یہی اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا جو بظاہر تو بے ترتیب ہو مگر غور کرنے سے اس میں اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہو۔پس اس حسن میں بھی قرآن کریم نہ صرف دوسری کتب کے مشابہ ہے بلکہ ان سے افضل ہے۔اس وجہ سے کہ معروف ترتیب کی اتباع کرنا ایک عام بات ہے۔ہر عقلمند ایسا کر سکتا ہے لیکن قرآن کریم کی ترتیب میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو دوسری کتب میں نہیں اور وہ خصوصیات یہ ہیں۔ترتیب قرآن کی چند خصوصیات اول۔اس کی ترتیب بظاہر مخفی ہے مگر غور اور تامل سے ایک نہایت لطیف ترتیب معلوم ہوتی