فضائل القرآن — Page 69
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ خدائے رحمن کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ تو وہ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔معترضین کہتے ہیں۔یہ آیت اس بات کی سند ہے کہ غیر زبان کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں کیونکہ عرب کے لوگ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے۔اگر یہ غیر زبان کا لفظ نہ ہوتا تو وہ کیوں ایسا کہتے حالانکہ معترضین اس آیت کے معنے ہی نہیں سمجھے۔کفار کا اعتراض لفظ ر مخمن پر نہیں تھا بلکہ اس اصطلاح پر تھا جو قرآن نے رحمن کے لفظ کے ذریعہ پیش کی تھی۔قرآن نے یہ نئی اصطلاح پیش کی تھی جو عربوں میں رائج نہ تھی۔جیسے صلوۃ عربی لفظ ہے مگر اصطلاحی صلوۃ قرآن نے پیش کی ہے۔اس کے متعلق بھی کفار کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں جانتے صلوۃ کیا ہوتی ہے۔پس ان لوگوں کا اعتراض در حقیقت اسلامی اصطلاح پر تھا اور انہوں نے یہ کہا کہ اس کا جو مطلب قرآن پیش کرتا ہے وہ ہم نہیں جانتے اور اصطلاح جدید علم جدید کے لئے ضروری ہوتی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک طرف تو قرآن میں آتا ہے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قومہ سے یعنی ہم نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں ہی وحی دیکر بھیجا ہے۔اور دوسری طرف سورۃ ہود میں آتا ہے۔مخالفین نے حضرت شعیب سے کہا۔يُشْعَيْب مَا نَفَقَهُ كَثِيرًا مَّهَا تَقُولُ کے اے شعیب ! ہماری سمجھ میں تیری اکثر باتیں نہیں آتیں۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کسی ایسی زبان میں باتیں کرتے تھے جسے وہ لوگ سمجھ نہ سکتے تھے بلکہ یہ ہے کہ جو دینی باتیں وہ بیان کرتے تھے اور جو جو مسائل وہ پیش کرتے تھے انہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔اہل عرب میں رحمن کا استعمال وہ الفاظ جو قرآن نے استعمال کئے ہیں وہ ان لوگوں میں پہلے سے موجود تھے۔چنانچہ رخمن کا لفظ بھی ان میں استعمال ہوتا تھا۔قرآن کریم میں آتا ہے۔وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمٰنُ ما عبدتهم ^ے یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمن کا یہی منشاء ہوتا کہ ہم شرک نہ کریں تو ہم شرک نہ کرتے۔غرض رحمن کا لفظ وہ بولا کرتے تھے مگر قرآن کریم نے رحمن اس ہستی کو قرار دیا ہے جو بغیر محنت کے انعام دیتی ہے۔اور یہ بات وہ لوگ نہیں مانتے تھے کیونکہ اس کے ماننے سے ان کا 89 69