فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 434

فضائل القرآن — Page 406

فصائل القرآن نمبر۔۔۔406 (۸) ہاں ایک بات رہ گئی اور وہ یہ کہ وہ تخت سلطنت کی حقیقت سے بھی خوب واقف تھا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ملکہ سبا کے پاس ایک ایسا عظیم الشان تخت ہے جو آپ کے پاس نہیں۔گویا وہ لالچ بھی دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس پر حملہ کیجئے۔شریعت کا بوجھ انسان کے سوا کسی اور پر نہیں ڈالا گیا یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ یہ ہد ہد کوئی پرندہ نہیں تھا کیونکہ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ وہ امانت جسے فرشتے بھی نہ اُٹھا سکے، جسے آسمان اور زمین کی کوئی چیز اُٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئی اسے انسان نے اُٹھا لیا۔وہی ہے جو ہماری شریعت کے اسرار کو جانتا ہے۔فرشتہ صرف ایک ہی بات سمجھتا ہے یعنی نیکی کی بات کو مگر انسان بدی اور نیکی دونوں پہلوؤں کو جانتا ہے اور تمام حالات پر مکمل نگاہ رکھتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ ہد ہد کوئی جانور تھا حالانکہ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ والی آیت موجود ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کے سوا اور کوئی مخلوق اسرار شریعت کی حامل نہیں۔پس جب کہ ہد ہد بھی اسرار شریعت سے واقف تھا تو لازما وہ بھی انسان ہی تھا نہ کہ پرندہ۔طیر کی مختلف اقسام اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا طیر کے متعلق قرآن کریم میں کوئی اشارہ پایا جاتا ہے یا نہیں؟ سو جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تیر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَا حَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أمْثَالُكُمْ ۲ یعنی زمین پر چلنے والے جانور اور دونوں پروں سے اُڑنے والے پرندے سب تمہاری طرح کی جماعتیں ہیں۔اب یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پرندوں کے لئے یہ شرط لگائی ہے کہ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ کہ وہ پرندے جو اپنے دونوں پروں کے ساتھ اُڑتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا پرندہ بھی ہوتا ہے جو پروں سے نہیں اُڑتا۔پھر اس سے بھی واضح آیت ہمیں ایک اور ملتی ہے جس سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ واقعہ میں طیر کسی اور چیز کا نام ہے۔سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ