فضائل القرآن — Page 407
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 407 فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ ضَفْبٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ، وَاللهُ عَلِيمٌ مَا يَفْعَلُونَ۔۲۳ یعنی کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وہ تمام ذوی العقول کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور ان ذوی العقول میں سے جو ظیر ہیں وہ صفیں باندھ باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ان گروہوں میں سے ہر ایک کونماز اور تسبیح کا طریق معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ان ذوی العقول کے تمام اعمال سے واقف ہے۔یہاں تین دلیلیں اس بات کی موجود ہیں کہ طیر سے مراد پرندے نہیں۔اوّل: يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْ ضِ میں سے اللہ تعالیٰ نے ظیر کیوں نکال ڈالے اور ان کا الگ کیوں ذکر کیا ؟ پھر تمن کا لفظ ہمیشہ ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتا ہے۔غیر ڈوی العقول کے لئے نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے صرف ظیر کو کیوں نکالا؟ جنات اور دوسری مخلوق کا الگ ذکر کیوں نہیں کیا؟ کیا اس سے صاف طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کیر کوئی الگ چیز ہے؟ پھرفرماتا ہے كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيْعه ان میں سے ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے۔اب سارے قرآن میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ پرندے بھی نمازیں پڑھا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خالی تسبیح ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں نماز کا بھی علم ہے اور وہ صفیں باندھ باندھ کر نمازیں پڑھتے ہیں۔آخر میں فرمایا وَ اللهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ اور يَفْعَلُونَ کا صیغہ پھر ڈوی العقول کے لئے استعمال ہوتا ہے۔آخر تم نے کبھی ایسے ظیر دیکھے ہیں جو صفیں باندھ باندھ کر نمازیں پڑھتے ہوں؟ ایسے کیر تو دنیا میں صرف مسلمان ہی ہیں اور کوئی نہیں۔پس تمج کا استعمال، كُل قَد عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَةُ کا استعمال اور وَاللهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ کا ذکر بتا رہا ہے کہ اس میں انسانوں کا ہی ذکر ہے خصوصا اُن مؤمنوں کا جو باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں۔مومنوں کو نظیر کیوں کہا گیا ؟ اب سوال یہ ہے کہ اگر طیر سے مراد اس جگہ مومن ہی ہیں تو پھر انہیں طیر کیوں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی اعمال کا جو نتیجہ ہو اسے عربی میں طائر کہتے ہیں اور اس کا ذکر قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی آتا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں فرماتا ہے۔فَإِذَا جَاءَتْهُم