فضائل القرآن — Page 28
28 فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔نازل فرمائی ہے جو متشابہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی ساری آیتیں ہی متشابہ ہیں۔حالانکہ پہلے ساری آیات کو محکم قرار دیا گیا تھا۔اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ محکم اور متشابہ کا مطلب اور تھا جو سمجھا نہیں گیا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ متشابہ کے معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ جس سے شکوک پیدا ہوں۔حالانکہ قرآن متشابہ کی یہ تفسیر کرتا ہے۔مَتَانِيَ تَقْشَعِرُ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إلى ذِكْرِ الله " کہ اس کے مضامین نہایت اعلیٰ ہیں اور جو لوگ اس کتاب کو سمجھ کر پڑھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے جسم کا رواں رواں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔یعنی ان کے قلوب میں خدا تعالیٰ کی محبت کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔اب بتاؤ۔کیا کسی شکی بات سے اس طرح ہو سکتا ہے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ متشابہ کا اور مطلب ہے اور وہ یہ کہ متشابہ کے معنی ہیں جو دوسری سے ملتی ہو۔یعنی متشابہ وہ تعلیم ہے جو پہلی تعلیموں سے ملتی جلتی ہو۔مثلاً روزہ رکھنا ہے۔یہ حکم اپنی ذات میں متشابہ ہے کیونکہ یہ تعلیم پہلے بھی پائی جاتی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ کے پس مجرد روزہ رکھنے کا حکم متشابہ ہے۔اسی طرح قربانیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِكُلِ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا یعنی ہر قوم کے لئے ہم نے قربانی کا ایک طریق مقرر کیا ہے۔پس قربانی کا حکم بھی متشابہ ہے۔دراصل قرآن نے اس میں ان لوگوں کو جواب دیا ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ قرآن نے دوسری کتابوں سے چوری کر کے سب کچھ پیش کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي انْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيْتَ مُحْكَمَتْ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشبہات کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کچھ تعلیمیں تو جدید ہیں اور کچھ تعلیمیں ایسی ہیں جو لا زما پچھلی تعلیموں سے ملنی چاہئیں۔مثلاً پہلے نبیوں نے کہا سچ بولا کرو۔کیا قرآن یہ کہتا ہے کہ سچ نہ بولا کرو۔جھوٹ بولا کرو؟ غرض فرمایا قرآن میں ایسی ہیں جو پہلی تعلیموں سے ملتی ہیں۔مگر آگے فرماتا ہے۔فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِه بيقوف لوگ جدید تعلیموں پر نظر نہیں ڈالتے اور پہلی تعلیموں سے ملتی جلتی تعلیموں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ قرآن بعض