فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 434

فضائل القرآن — Page 29

فصائل القرآن نمبر۔۔۔29 29 نے یہ قتل کی ہے۔وہ محض فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے اور اس کتاب کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کے لئے ایسا کرتے ہیں وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا الله کے حالانکہ ان کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی سمجھ سکتا ہے کہ کتنی تعلیم دوبارہ نازل کرنی ضروری ہے۔انسان کے ہاتھ میں اس نے یہ کام نہیں رکھا۔کیونکہ گو وہ تعلیم پہلے نازل ہو چکی ہوتی ہے مگر پھر بھی اس کی وہ مقدار جو آئندہ کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔کوئی اور نہیں کر سکتا۔اور یا پھر خدا تعالیٰ کے علم دینے کے بعد وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی کتب کا حقیقی علم رکھنے والے ہیں سمجھ سکتے ہیں کہ کس حد تک اس تعلیم کو قائم رکھا جانا ضروری تھا اور کسی امر کو کیوں بدلا گیا ؟ اس کی اور تشریحات صحیحہ بھی ہو سکتی ہیں۔مگر ان میں محکم اور متشابہ کو معین نہیں کیا جاسکتا۔ایک ہی آیت ایک وقت میں محکم اور ایک وقت میں متشابہ ہو جاتی ہے۔یعنی جو آیت کسی کی سمجھ میں آگئی وہ محکم ہوگئی اور جو نہ آئی متشابہ ہوگئی مگر پھر اختلاف ہوسکتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ ایک شخص ایک معنی کے لحاظ سے کسی آیت کو محکم قرار دے دے اور دوسرا اسے درست نہ سمجھتے ہوئے اسے متشابہ کہہ دے مگر ان معنوں میں محکم آیات بالکل ظاہر ہو جاتی ہیں۔یعنی وہ تعلیمات قرآنیہ جو پہلی کتب سے زائد ہیں وہ سب محکم ہیں اور دوسری متشابہ۔سارے قرآن کو محکم اور سیارے قرآن کو متشابہ کیوں کہا گیا ہے باقی رہا یہ سوال کہ پھر ایک جگہ سارے قرآن کو محکم اور دوسری جگہ سارے قرآن کو متشابہ کیوں کہا گیا ہے۔تو اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآن کریم کی اصطلاح میں محکم تعلیم وہی ہے جس میں قرآن کریم نے تجدید کی ہے۔اور جس امر میں وہ پہلی کتب سے ملتا ہے وہ متشابہ ہے۔لیکن ایک لحاظ سے سارا ہی قرآن محکم ہے۔کیونکہ اصولاً کسی تعلیم کو دیکھتے ہوئے اس کے کسی ایک ٹکڑے کو نہیں بلکہ مجموعہ کو دیکھتے ہیں۔اور احکام کی مختلف اجناس کو بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اسلامی تعلیم بالکل جدا ہے۔کسی حصہ تعلیم میں بھی اس نے اصلاح کو ترک نہیں کیا۔اور وہ پہلی کتب کے بالکل مشابہ نہیں ہے، اس لئے وہ سب محکم ہے۔لیکن اسی طرح چونکہ سب اصول شریعت کا پہلی کتب میں پہلے لوگوں کے درجہ کے مطابق نازل ہونا بھی ضروری تھا تا کہ پہلے زمانہ